خود ڈرائیونگ کرکے سفر طے کرنے والی دو بہنوں کو ہراسگی کا سامنا

ہمارے ملک میں چار دیواری سے باہر قدم رکھتے ہی حوا کی بیٹی پر انجانے خوف کی کیفیت طاری رہتی ہے اور دوران سفر سے لیکر اپنی منزل تک پہنچنے تک خواتین کو کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی شکل میں ہراساگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. اس ہی حوالے سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے راہ چلتی خاتون کو ہراساں کرنے کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پورے ملک میں ، بہت سی خواتین ہیں جو سڑک پر ہراسانی کا سامنا کرتی ہیں ، چاہے ان کی عمر اور ان کا لباس کچھ بھی ہو۔ سڑک پر ان کی موجودگی اور یہ کہ وہ خواتین ہیں ہراساں کرنے کے لیے کافی ہیں۔ دو بہنوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، جن کے پیچھے سڑک پر چلتی ایک کار تھی۔

Image Source: Instagram

تفصیلات کے مطابق ایک ہفتہ قبل ایک خاتون اسلام آباد کے علاقے ایف 7 سے اپنی بہن کے ہمراہ واپس آرہی تھیں، کہ ایک گاڑی کی جانب سے تقریباً گھنٹہ بھر ان کا پیچھا کیا گیا، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں بہنیں اکیلے سفر کر رہی تھیں۔

خاتون کے مطابق وہ ڈر گئیں تھیں، لہذا انہوں نے او ایکس اینڈ گرل کے سامنے گاڑی روک کی، تو متعلقہ گاڑی والے نے بھی اپنی گاڑی کو روک دیا اور دیر تک ہمارا انتظار کرتا رہے وہ ہمارے ارد گرد حملہ کرنے اور زوم کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور ہم گھر واپس جا رہے تھے، تو میں نے ان کی گاڑی اور ان کی تصویر بھی لی!

Image Source: Instagram

خاتون نے اپنی شئیر کردہ پوسٹ میں بتایا چونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ لوگ یہ دیکھے کہ وہ کہاں رہتی ہیں ، اس لیے انہوں نے ان سے چھٹکارا پانے کی کوشش جاری رکھی۔ چنانچہ اس 10-15 منٹ کی مدت کے دوران ، وہ لین تبدیل کرتی رہی یہاں تک کہ گاڑی ان کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ جس پر اس کے دوست نے کھڑکی سے لپٹ کر گاڑی میں کچھ پھینکنے کی کوشش کی۔ تاہم ، انہوں نے نظر انداز کرنے کی کوشش کی کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

خاتون کے مطابق مزکورہ نوجوان اس دوران انہیں کچھ ناموں یعنی”کیوٹی” وغیرہ ناموں سے آوازیں لگاتے رہے۔ میرا دل دھڑک رہا تھا، اس لیے میں نے سب سے بہتر کام کیا، میں گاڑی کو چلاتی رہی اور پھر ہم بلیو ایریا روڈ پر کسی مقام پر پہنچ گئے۔ لیکن وہ نوجوان اب بھی ہمارے پیچھے تھے اور یہ ہمارے لئے کافی خوفناک صورتحال تھی۔

چنانچہ وہ تھوڑی دیر کے لیے ایک دکان پر بیٹھی اور باہر دوبارہ چیک کیا کہ آیا وہ چلے گئے ہیں یا اب بھی وہاں ہیں ، لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ ” وہ یہ سب کچھ محض اس لئے بتارہی ہیں، کہ جو خواتین خود گاڑی چلاتی ہیں، وہ کیسے اس طرح کے تجربات کا سامنا کرتی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دیگر خواتین کو مذکورہ شخص سے چوکنا رہنے کی تلقین کرتے ہوئے درخواست کی اگر کوئی اس شخص کو پہچانتا ہے، تو اسے ٹیگ کردے۔ آخر میں خاتون نے مذکورہ گاڑی کا نمبر بھی شئیر کیا۔ اے ایچ جی 333 ۔ اسلام آباد

مزید پڑھیں: ہولی فیملی اسپتال کی ڈاکٹر کو ٹیکنیشن کیجانب سے ہراسگی کا سامنا

حالیہ دنوں کراچی کی مصروف ترین شاہراہ شارع فیصل پر ایک خاتون ٹیچر کو ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ٹیچر نے فیس بک پر ایک پوسٹ کی جس میں انہوں نے دو موٹر سائیکلوں پر سوار تین اوباش لڑکوں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں جنہوں نے انہیں راستے میں ہراساں کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یہ لڑکے دیدہ دلیری سے ان کے رکشے کا پیچھا کرتے رہے اور چھیڑ چھاڑ، آوازیں کسنےکے ساتھ انہیں اشارے بھی کرتے رہے۔ ٹیچر نے ان لڑکوں کی ویڈیو بنائی اور اپنی پوسٹ میں اس ویڈیو کو وائرل کرنے کی درخواست بھی کی جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور ان اوباش لڑکوں کو گرفتار کرلیا

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago