اکثر ہم فلموں میں اداکاروں کو ڈبل رول کرتے دیکھتے رہتے ہیں، لیکن ذرا سوچیں کہ اگر ایسا منظر فلموں کے بجائے عام زندگی میں دیکھنے کو ملے تو کیسا محسوس ہوگا؟ یہ جان کر آپ کو حیرت کا جھٹکا لگے گا کہ دنیا میں واقعی ایک گاؤں ایسا ہے جہاں قدم قدم پر آپ کو جڑواں لوگ دیکھنے کو ملیں گے۔ اس جگہ کو قدرت کا کرشمہ نہیں تو پھر اور کیا کہیں چونکہ یہاں پر جگہ جگہ حقیقت میں سیتا اور گیتا، رام اور شیام چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔
یہ حیرت انگیز گاؤں بھارتی ریاست کیرالہ میں ضلع ملا پورم میں ہے اور اس کا نام کوڈنھی ہے۔ اس گاؤں میں لگ بھگ دوہزارکی آبادی ہے مگر ساڑھے تین سو سے زیادہ جڑواں بچے ہیں۔ اس گاؤں کی 85 فیصد آبادی مسلمان ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہندو خاندانوں میں جڑواں بچے پیدا نہیں ہوتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس گاؤں پر اللہ کا عجیب وغریب فضل ہے کہ جب بھی یہاں کسی کنبے میں بچے پیدا ہوتے ہیں تو زیادہ تر جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق ، گذشتہ 50 سالوں میں یہاں ساڑھے تین سو سے زیادہ جڑواں بچے پیدا ہوئے۔ اس گاؤں کی داخلی حدود پر ایک بورڈ نصب ہے جس پر لکھا ہے کہ “اللہ کے گائوں کوڈنھی میں خوش آمدید” جبکہ اس گاؤں کو جڑواں بچوں والے گاؤں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس گاؤں میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ یہاں جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں؟ اس سلسلے میں بہت سارے تحقیقی کام ہوچکے ہیں۔ تاہم اس گاؤں میں جڑواں بچوں کی پیدائش کی وجہ کچھ لوگوں نے یہاں کے کھانے اور طرز زندگی کو قرار دیا ہے، کچھ کہتے ہیں کہ یہاں کی مٹی میں کچھ خاص چیز ہے، کچھ کا خیال ہے کہ گاؤں کے پانی میں موجود کیمیکل کی وجہ سے بھی ایسا ہوسکتا ہے وغیرہ وغیرہ مگر پھر بھی ابھی تک اس گاؤں میں جڑواں بچوں کی پیدائش کا معمہ حل نہیں ہوسکا ہے۔
مزید برآں ، اس گتھی کو سلجھانے کے لئے یہاں پر جرمنی اور برطانیہ کے محققین کی ٹیم بھی دورہ کر چکی ہے اور اس ٹیم نے مطالعے کے لئے لوگوں کا ڈی این اے بھی لیا تھا۔ لیکن آج تک کسی کو بھی جڑواں بچوں کی پیدائش کی اصل وجہ سمجھ نہیں آ سکی ہے۔ محققین کے مطابق گاؤں میں جڑواں بچوں کی پیدائش کے پیچھے بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ تاہم، اب تک کوئی وجہ ثابت کرنے کے لئے کوئی سائنسی بنیاد نہیں مل سکی ہے۔ وجوہات چاہے جو بھی ہوں لیکن بھارت کا یہ عجیب وغریب گاؤں ہمشکل چہروں سے بھرا ہوا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جڑواں بچوں کی پیدائش کی وجہ سے یہاں کی آبادی میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ایک کے بعد ایک جڑواں بچے پیدا ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ رواں برس جڑواں بچوں کی پیدائش کے حوالے سے ایک حیران کن واقعہ منظر عام پر آیا تھا جس میں دو جڑواں بچوں کی پیدائش الگ الگ سالوں میں ہوئی تھی۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں فاطمہ نامی ایک خاتون نے صرف 15 منٹ کے فرق سے جڑواں بچوں کو جنم دیا جس سے ان کے پیدائش کے سال مختلف ہوگئے، ایک بچہ 2021 اور دوسرا 2022 میں پیدا ہوا تھا۔
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…