بین الاقوامی سطح پر دستاویزی فلم کے مقابلے میں پاکستان کی پہلی پوزیشن


0

یہ محض اقبال کا ایک شعر نہیں تھا بلکہ ایک قوم کے رہنما کی اپنی قوم کے لوگوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اعلان تھا، جسے وقت گزرنے کے ساتھ پھر پوری قوم نے سچ ثابت کرکے بھی دیکھایا۔ ملک کئی مواقعوں پر مشکل اور کٹھن دور سے گزرا لیکن اس قوم نے ہمیشہ تمام پریشانیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ملک اور قوم کا پوری دنیا میں نام روشن کیا اور انہیں لوگوں میں ایک نام پاکستانی طالبہ حوریہ امیری کا بھی ہے، جنہوں نے اپنی زبردست فنی صلاحیت سے بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی طالبہ حوریہ امیری نے بین الاقوامی سطح پر دستاویزی فلم کے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کردیا۔

Image Source: Facebook

صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی حوریہ امیری کی مختصر دستاویزی فلم بین الاقوامی ادارے کی جانب سے گلوبل اسٹوری ٹیلنگ کمپیٹیشن 2021 میں ایوارڈ کے لیے منتخب کی گئی ہے۔

اگر اس بین الاقوامی مقابلے کی بات کی جائے تو اس میں پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 400 افراد نے حصہ لیا۔ جبکہ پاکستانی نوجوان فلم ساز حوریہ امیری نے اپنی مختصر دستاویزی فلم سے حیدرآباد سمیت پاکستان میں آلودہ پانی کی فراہمی، صحت و صفائی کے فقدان، کچرے اور اس سے پھیلنے والی بیماریوں کی نشاندہی کی تھی۔حوریہ امیری کی دستاویزی فلم سمیت دیگر دستاویزی فلموں کی تصاویر ورچوئل آرٹ گیلری میں رکھی گئی ہیں۔

جیو نیوز کے مطابق حوریہ امیری کو اس دستاویزی فلم ناصرف ایوارڈ سے نوازا گیا ہے بلکہ انہیں ان کامیابی کے اعتراف پر 2500 ڈالرز اور اسکالرشپ بھی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

حوریہ امیری کی کامیابی اس بات کی ضمانت ہے کہ پاکستانی نوجوان کچھ کر دیکھانے کی صلاحیتوں سے مالامال ہیں، اگر انہیں درست رہنمائی اور ضروری وسائل فراہم کئے جائیں، تو یہ دنیا بھر میں اپنا لوہا منوانے کی زبردست اہلیت رکھتے ہیں، عموماً ہمارے معاشرے میں اگر بات کرلی جائے، تو اس پروفیشن کو کبھی اتنی اہمیت نہیں دی گئی ہے، نہ ہی اس کے حوالے سے نوجوانوں کو زیادہ آگاہی ہے۔ سب ہی کے ذہنوں میں بچپن سے ہی ڈاکٹر، انجینئر، وکیل وغیرہ جیسے شعبہ جات کی رجحان سازی کی جاتی ہے، جو یقیناً اچھی بات ہے، لیکن ان شعبہ جات پر بھی تھوڑی توجہ دی جائے، تو تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال لوگ پاکستان کی اس انڈسٹری کو بھی عالمی طرز کی انڈسٹری کے مدمقابل لاکر کھڑا کرسکتے ہیں۔

یاد رہے اس قبل نوجوان پاکستانی ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ کی کتاب آپٹکس میڈ ایزی : دی لاسٹ ریویو آف کلینکل آپٹکس کو “بک اتھارٹی” کی جانب سے “بیسٹ اوپتھلمولوجی بکز آف آل ٹائمز” کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔ عالمی ماہرین کی جانب سے متعلقہ کتاب کو آپٹکس (یعنی آنکھوں) علوم کے حوالے دنیا میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔


Like it? Share with your friends!

0

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *