ڈاکٹر میاں بیوی نے نلتر جھیل میں ڈوبنے والے لڑکے کی جان بچالی، ویڈیو وائرل

ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے، پنجاب سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز نے جھیل میں ڈوبنے والے بچے کو ابتدائی طبی امداد کے ذریعے بچاکر عظیم انسانیت کی مثال قائم کردی۔

یہ واقعہ گلگت بلتستان کی نلتر ست رنگی جھیل میں اس وقت پیش آیا کہ جب مویشی چراتے ہوئے ایک لڑکا جھیل میں گر کے ڈوب گیا۔ لڑکے کو بچانے کے لئے اس کے چچا زاد بھائی نے بھی جھیل میں چھلانگ لگائی۔ ان دونوں لڑکوں کو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت دونوں لڑکوں کو بے ہوشی کی حالت میں جھیل سے نکالا۔ پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے باہر نکالنے پر لڑکوں کی حالت انتہائی خراب تھی۔

Image Source: Instagram

ایسے میں وہاں ملتان سے تفریح کی غرض سے آنے والی لیڈی ڈاکٹر قراۃ العین اور ان کے شوہر ڈاکٹر اسرار فوری طور پر مدد کے لئے آگے آئے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے موقعے پر سی پی آر تھراپی کے ذریعے ایک لڑکے کی سانس بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے لیکن دوسرا جانبر نہ ہوسکا۔

Image Source: Instagram

ڈاکٹروں کی جانب سے انسانی جان بچانے کی کوشش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح ڈاکٹر اسرار مسلسل اپنے منہ سے مصنوعی سانس دیتے رہے جبکہ ان کی اہلیہ ڈاکٹر قراۃ العین متاثرہ بچے کو سی پی آر تھیراپی کے تحت بچے پر دباؤ ديتی رہيں اور بچے کی سانس بحال کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔ مذکورہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بچے کے اہلخانہ قریب کھڑے رو رہے ہیں جبکہ خاتون بچے بچاتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ ہمت کرو بیٹھا سانس لو۔ تاہم کچھ دیر کی کوشش کے بعد معجزانہ طور پر بچے کی سانس بحال ہوگئی۔

واضح رہے کہ ملتان سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر قرۃ العین کینسر اسپیشلسٹ ہیں ان کے شوہر اسرار ملتان کے نجی ریڈیو چینل میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔

دوسری طرف، مذکورہ میاں بیوی کے اس عمل کو سوشل میڈیا صارفین خوب سراہا رہے ہیں، ایک صارف نے لکھا کہ ڈاکٹر صاحبہ کو اس کام اور قیمتی جان بچانے کے اعتراف میں اعزاز دیا جانا چاہیے۔ دوسرے صارف نے لکھا کہ یہ تکنیک سیکھنے میں صرف ایک گھنٹہ لگتا ہے اگر آپ کسی اسکول کالج کے ٹیچر یا کسی عوامی عہدے پر ہیں تو خدا کے لئے لوگوں کو یہ ٹریٹمنٹ سکھانے کا انتظام کریں۔ جبکہ ایک اور صارف نے لکھا کہ ناقابل یقین یہ دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ایک جان بچانا انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ ان کے علاوہ بھی متعدد صارفین نے ان کی تعریف کی ہے اور ان کی مدد کرنے کے اس عمل کو سراہا ہے۔

یاد رہے کہ سی پی آر ہنگامی حالت میں مریض کو ہوش میں لانے کے لئے چھاتی کو دبانے اور منہ سے منہ جوڑ کر سانس بحال کرنے کا عمل ہے، اگر یہ عمل اچھی طرح کیا جائے تو ایسے مریض جنہیں دل کا دورہ پڑا ھو یا پانی میں ڈوبنے سے سانس بند ہو تو خون اور سانس بحال کرنے میں مدد ملتی ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

6 days ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 week ago

وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ویسٹ واٹر ماحولیاتی نگرانی کی حکمتِ عملی اور جینومکس ڈیش بورڈ کا افتتاح کر دیا

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل انسٹی…

3 weeks ago

ویزا اسٹڈی:  %82پاکستانی صارفین خریداری کے لیے AI استعمال کرتے ہیں، لیکنچیک آؤٹ کے وقت اعتماد ‏فیصلہ کن

• پاکستان میں %82 صارفین نے خریداری میں مدد کے لیے  آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial…

2 months ago

برٹش کونسل پاکستان اور ہمنوا کے اشتراک سے عربی گیت ’’ایسیکتا‘‘ کی رونمائی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) برٹش کونسل پاکستان اور پاکستان کے عالمی میوزک پلیٹ فارم ’’ہمنوا‘‘ نے…

2 months ago