فیروز خان پر سابقہ اہلیہ نے تشدد، بے وفائی اور بلیک میلنگ کے الزامات عائد کردئیے

اداکار فیروز خان اور علیزے کے درمیان 2020ء میں سوشل میڈیا پر یہ افواہیں پھیلی تھیں کہ دونوں میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں جبکہ کچھ سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ ان کے درمیان علیحدگی ہوگئی ہے۔ بعدازاں دونوں کے درمیان تعلقات بحال ہوگئے تھے۔ لیکن اب کی بار اس جوڑے نے ہمیشہ کے لئے اپنی راہیں جدا کرلی ہیں اور ان کے درمیان طلاق ہوگئی ہے جس کے تصدیق دونوں جانب سے کی جاچکی ہے۔

علیزے سلطان نے علیحدگی کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے انسٹاگرام اکاونٹ پر بیان جاری کیا کہ ہماری 4 سالہ شادی الجھنوں کا شکار رہی، اس عرصے کے دوران میں نے اپنے شوہر کی جانب سے مسلسل جسمانی و نفسیاتی تشدد بھی برداشت کیا۔ انہوں نے یہاں تک لکھا کہ انہیں بے وفائی اور بلیک میلنگ کا بھی سامنا کرنا پڑا، اور بہت سوچنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ میں اپنی پوری زندگی اس خوفناک ماحول میں نہیں گزار سکتی ہوں۔

Image Source: File

اس سلسلے میں فیروز خان کی سابق اہلیہ نے مزید لکھا کہ میں نہیں چاہتی کہ میرے بچے ایسے تشدد زدہ ماحول میں پرورش پائیں، میرے بچوں کی بھلائی کیلئے یہ فیصلہ اہم تھا۔ میں اپنے بچوں کو سکھاؤں گی کہ کوئی زخم اتنا گہرا نہیں ہوتا کہ بھر نہ سکے۔

واضح رہے کہ فیروز خان نے بھی سابقہ اہلیہ علیزے سلطان کے ساتھ تمام تعلقات ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا اور اپنی سابقہ اہلیہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے بھی انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی اور بتایا کہ ان کی طلاق 3 ستمبر 2022 کو ہوئی اور اب انہوں نے بچوں سلطان اور فاطمہ کی کسٹڈی کے لیے عدالت میں کیس دائر کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے ملک کی عدالت کے انصاف پر پورا بھروسہ ہے، ان کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے جس وجہ سے وہ اس معاملے پر زیادہ بات نہیں کرسکیں گے۔اداکار نے یہ بھی لکھا کہ میرے دل میں سابقہ اہلیہ کے لیے احترام ہے کیونکہ وہ میرے بچوں کی والدہ ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ خبر آنے کے بعد کچھ ساتھی اداکاروں کی طرف سے فیروز خان کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ جیسے وہ اسکرین پر پرتتشدد کردار ادا کرتے ہیں ویسے ہی وہ اصل زندگی میں بھی ہیں۔

دوسری جانب، کراچی کی مقامی عدالت نے اداکار فیروز خان کو عدالتی اجازت کے بغیر بچوں سے ملاقات سے روک دیا ہے۔

Image Source: File

فیملی کورٹ شرقی میں اداکار فیروز خان کی جانب سے بچوں سے ملاقات کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں اداکار نے کہا کہ بچوں کاخرچ ادا کررہاہوں ، اسکول میں داخلہ بھی  دلوایا مگر بچوں کی والدہ انہیں اسکول نہیں بھیج رہیں۔ اداکار کی سابقہ اہلیہ کا کہنا تھا کہ میں گلستان جوہر میں رہتی ہوں، روز ڈیفنس کے اسکول کیسے لے جاؤں۔ عدالت نے عدالتی اجازت کے بغیر فیروز خان کو بچوں سے ملاقات سے روک دیا اور فیروز خان کی درخواست پر سابقہ اہلیہ سے جواب طلب کرلیا۔عدالت نےکیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ فیروز خان اور علیزے سلطان کی شادی 2018ء میں ہوئی تھی، جس سے دونوں کے دو بچے بھی ہیں، جبکہ دو سال سے دونوں کی علیحدگی کی خبریں بھی سامنے آ رہی تھیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago