فیصل آباد:ظالم خاندان نے 12 سالہ نوکرانی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں نوکروں کے خلاف تشدد کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ ہفتے کے روز ایک نئی ویڈیو منظر عام پر آنے لوگ حیران رہ گئے جب انہوں نے دیکھا کہ کس طرح ایک شخص اور کچھ خواتین مل کر ایک کمسن ملازمہ پر تشدد کررہے ہیں۔

جیو نیوز کے مطابق ، فیصل آباد کی ایک سڑک پر ایک کمسن بچی کو اس کے ما لکوں نے انتہائی بے دردی سے پیٹا، جبکہ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس نے بتایا کہ یہ مقدمہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی شکایت پر درج کیا گیا تھا ،اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد چائلڈ پروٹیکشن بیورو فوری طور پر حرکت میں آیا تھا اور ظالم خاندان کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔

تمام صارفین نے ویڈیو کو سوشل میڈیا پر دیکھ کر افسوس اور غصے کا اظہار کرتے نظر آئے جلد ہی پولیس نے حرکت میں آتے ہوئے نہ صرف خاندان کے خلاف مقدمہ درج کیا بلکہ وڈیو میں موجود مرد اور خواتین کو گرفتار کرنے کے لئے چھاپے بھی مارے جنہوں نے بچی کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ویڈیو میں موجود 12 سالہ لڑکی گھریلو ملازمہ ہے، جس کے حوالے سے ،چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئر پرسن سارہ احمد نے جیو نیوز کو بتایا کہ ، “اہل خانہ کہ مطابق کمسن بچی جس کو مار رہے تھے دراصل ذہنی مریضہ ہے ۔”

تاہم ، انکا کہنا تھا کہ، “یہ کوئی جواز نہیں کہ ذہنی مریضہ ہے اس لیے مارا۔ کمسن بچی کو ملازم کی حیثیت سے رکھنا بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جبکہ ابھی تک نہ تو بچی اور نہ ہی اس کے والدین کے حوالے سے کوئی معلومات حاصل ہوسکی ہے

Image Source: Screengrab

سارہ احمد کے مطابق ، “وہ بیورو پولیس کے ساتھ مل کر بچی کا پتہ لگانے کے لئے کام کر رہی ہیں۔”

ادھر ویڈیو میں موجود شخص اور اس کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ جبکہ اس واقعہ کا وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے نوٹس لیتے ہوئے آر پی او فیصل آباد سے رپورٹ طلب کی ہے۔

صوبائی حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے ، “وزیر اعلی نے معصوم بچے کو تشدد کا نشانہ بنانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔”

پاکستان میں ایسے معاملات کافی عام ہیں جہاں ملازموں پر بدترین تشدد کیا جاتا ہے ۔ اس سے قبل جون کے مہینے میں ، رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی ظالم بہنوں نے اپنی نوکرانی کو تشدد کا نشانہ بنایا اور جبری جسم فروشی پر مجبور کیا۔ جبکہ لاہور میں ایک اور 13 سالہ نوکرانی کو ایک بوڑھے مالک نہ صرف زیادتی کا نشانہ بنایا اور تشدد کیا تھا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago