مدرسے کے طالبعلم نے بڑی بڑی جامعات کے طلباء کو پیچھے چھوڑ دیا

کہتے ہیں محنت اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ انسان سے دنیا کا مشکل ترین کام بھی کروا لیتی ہے، اور وہ کام اگر انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد یا خواب ہو تو پھر اس شخص کو روکنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے ایسا ہی کچھ ہوا ایک مدرسہ کے طالب علم کے ساتھ جس نے ایک بار طے کرلیا کہ اس کو سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنا ہے تو پھر اس کو کوئی روک نہیں سکا۔

عام طور پر مدرسہ کے طالب علم کا نام سن کر ہمارے ذہنوں میں آتا ہے کہ مسجد کا خطیب یا موذن یا پھر کوئی نعت خواہ لیکن ان سب خیالات اور تصورات کا پہلے بھی کئی بار ماضی میں عنصر تبدیل کیا گیا البتہ بدقسمتی ان کی اتنی کبھی تشہیر کی گئی، لیکن اس بار معاذ الرحمان نے تو پچھلے تمام تصورات کو گویا ایک نئے رخ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اور بتا دیا ہے کہ مدرسہ کے بچے علمی میدان میں دینی علمی میدان کے ساتھ دنیاوی علمی میدان میں بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔

معاذ الرحمن کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھے، معاذ کے والد ناصرف مسجد کے امام تھے بلکہ وہ ایک مذہبی عالم دین بھی تھے۔ معاذ الرحمان نے اپنی بنیادی تعلیم مدرسہ سے حاصل کی، جہاں اس نے دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے ایک دوست سے ملاقات کی جس نے اس کو سی ایس ایس امتحان کے بارے میں بتایا، کیونکہ اس سے قبل معاذ الرحمان سی ایس ایس امتحان کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا تاہم اس نے اس امتحان کے بارے میں جانا اور پھر اس امتحان کی تیاری شروع کردی۔

معاذ الرحمان نے اپنے دئے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا لیکن اس کے اندر علم حاصل کرنے کی بھوک تھی، اس نے اپنی بنیادی ساری تعلیم اس مدرسے کے توسط سے حاصل کی۔ تاہم معاذ الرحمان کے مطابق دوران سی ایس ایس سے نے کافی نئی چیزوں کے بارے میں پڑھا اور سمجھا۔

ابتداء معاذ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑھا لیکن وہ محنت کرتا رہا، پہلی مرتبہ جب معاذ نے سی ایس ایس امتحان دیا تو وہ پانچ پیپر میں فیل ہو گیا تھا ،لیکن اس نے پھر محنت کی اور روبارہ امتحان دیا جس میں وہ تین پیپر میں فیل ہوا اس کے بعد معاذ نے صوبائی سطح پر پروینشل مینجمنٹ سروسز کا امتحان دیا جس میں اس نے کامیابی حاصل کی البتہ وہ اس میں کوئی سیٹ حاصل نہ کرسکا، کہنے کو یہ سب سے مشکل وقت ہوتا پے جب آپ منزل کے قریب ہوکر منزل سے دور ہو جائیں لیکن شاید معاذ کو اللہ پر اور اپنی محنت پر یقین تھا کہ ایک دن وہ اپنی منزل کو پالے گا اور بلکل ایسا ہی ہوا جب وہ تیسری مرتبہ سی ایس ایس کے امتحان کا حصہ بنا اور اس نے ناصرف امتحان پاس کیا بلکہ اپنے صوبے میں 67 نمبر بھی حاصل کیا ۔

معاذ الرحمان چاہتا ہے کہ وہ ایک دن ناصرف اپنی قوم کی خدمت کرسکے بلکہ اپنے معاشرے کو تبدیل کرنے کا خواہاں ہے، ساتھ ہی وہ چاہتے ہیں کہ تمام مدرسہ تعلیم حاصل کرنے والے آگے بھی مزید تعلیم حاصل کریں۔ معاذ الرحمان کے مطابق مدرسہ کے اسٹوڈنٹس بھی دیگر بچوں کی طرح ناصرف ذہانت کے حامل ہیں بلکہ وہ بہت زیادہ قابلیت بھی رکھتے ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ اور سٹی پاکستان نے سپلائر فنانسنگ اور سپلائی چین کی مضبوطی کے لیے شراکت داری کی

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) نے اپنے سپلائرز کے لیے سٹی پاکستان کے Citi®…

3 days ago

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

2 weeks ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

3 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

4 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

1 month ago