Categories: صحتنیوز

کیا آپ کو معلوم ہے کون سا فیس ماسک کس کام آتا ہے؟

کررونا وائرس کی وباء نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ دن بہ دن کیسز کی تعداد بڑ ھتی جارہی ہے۔اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے احتیاط۔۔۔ ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھونا اور چہرے پر ماسک لگانا نہایت ضروری ہے۔
اس وائر س سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے دنیا بھر میں ماسک کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور ان کی مختلف اقسام استعمال کی جا رہی ہیں۔

سرجیکل ماسک


کررونا وائرس سے بچاؤ کیلئے سرجیکل ماسک کا استعمال زیادہ کیا جارہا ہےیہ عام طور پر کپڑے یا کاغذ کی تین تہوں سے بنایا جاتا ہے ۔
برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کے مطابق سرجیکل ماسک کھانسی یا چھینک کی رطوبت میں موجود وائرس سے بچاؤ اور ہاتھ سے منہ تک اس کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرتےہیں۔ لیکن عام استعمال کے لئے سرجیکل ماسک فضا میں موجود وائرس یا بیکٹیریا سے بچاؤ کے لیے بہت پراثر ثابت نہیں ہوتے۔ ان کی ناکامی کی وجہ ان کا ڈھیلا ہونا اور ہوا کی صفائی کے فلٹر کی عدم موجودگی ہے۔

رسپائریٹر ماسک


ماسک کی دوسری قسم ریسپائریٹر ہے۔ یہ چہرے پر مضبوطی سے ٹھہر جاتے ہیں تاکہ ہوا کا اخراج نہ ہوسکے اور ہوا بالکل لیک نہ ہوسکے۔
دراصل ماسک پہن کر جب ہم سانس اندر کھینچتے ہیں تو ہوا ریسپائریٹرکے فلٹر میں سے ہوکر گزرتی ہے جو ان ذرات کی تعداد گھٹا دیتے ہیں جو ہم اندر کھینچ رہے ہوتے ہیں۔ اس لئےانھیں پہننے کا طریقہ بھی نسبتاً دقت طلب ہوتا ہے۔
ریسپائریٹر کی مختلف اقسام ہیں۔ ان کی ایک قسم عام ماسک جیسی ہوتی ہے اور انھیں فلٹرنگ فیس پیس (ایف ایف پی) کہتے ہیں۔ ان ماسک میں کچھ استعمال کے بعد پھینک دینے کے لیے ہوتے ہیں جبکہ کچھ کو جراثیم سے پاک کر کے دوبارہ استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

محققین کے مطابق یورپ میں ریسپائریٹرز کی درجہ بندی مختلف انداز میں کی جاتی ہے ۔ ان ریسپائرٹر کے فلٹر کی کارکردگی کو ایک مخصوص معیار تک پرکھا جاتا ہے. چنانچہ ایف ایف پی ریسپائریٹر 1 وہ قرار دئیےجا تے ہیں جو کم از کم 80 فیصد ذرات کو فلٹر کر دیتے ہیں جبکہ ایف ایف پی 2 کم از کم 94 فیصد اور ایف ایف پی 3 این 100 کی طرح 99.97 فیصد ذرات کو روک دیتے ہیں۔

پاورڈ ایئر پیوریفائنگ ریسپائریٹر

اب باری آتی ہے پاورڈ ایئر پیوریفائنگ ریسپائریٹر یا پی اے پی آر کی جو ہیلمٹ جیسے نظر آتے ہیں۔ یہ این 100 یا ایف ایف پی 3 کی ہی طرح مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے ریسپائریٹر بنانے والی ایک بڑی کمپنی کے مطابق یہ وائرس سے تحفظ کے لئے ایک جامع حل ہے۔ اس میں چہرے پر ایک شیلڈ ہوتی ہے اور ایک نالی جو بیلٹ میں موجود ایک آلے سے منسلک ہوتی ہے۔ اس آلے میں ایک موٹر ہوتی ہے جو ہوا کو پمپ کر کے فلٹر سے گزارتی ہے۔ یہ ایک سفید سوٹ کا حصہ ہوتا ہےچنانچہ یہ نہایت جامع تحفظ فراہم کرتا ہے۔
محققین کے مطابق یہ شیلڈ بیرونی ذرات سے تقریباً مکمل تحفظ فراہم موزوں ہے۔ آنے والے وقت کے لئے پاورڈ ایئر پیوریفائنگ ریسپائریٹر ایک بہترین اقدام ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

6 days ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 week ago

وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ویسٹ واٹر ماحولیاتی نگرانی کی حکمتِ عملی اور جینومکس ڈیش بورڈ کا افتتاح کر دیا

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل انسٹی…

3 weeks ago

ویزا اسٹڈی:  %82پاکستانی صارفین خریداری کے لیے AI استعمال کرتے ہیں، لیکنچیک آؤٹ کے وقت اعتماد ‏فیصلہ کن

• پاکستان میں %82 صارفین نے خریداری میں مدد کے لیے  آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial…

2 months ago

برٹش کونسل پاکستان اور ہمنوا کے اشتراک سے عربی گیت ’’ایسیکتا‘‘ کی رونمائی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) برٹش کونسل پاکستان اور پاکستان کے عالمی میوزک پلیٹ فارم ’’ہمنوا‘‘ نے…

2 months ago