رزق حلال کمانے کے لئے چھوٹی بچی معذور باپ کا سہار بن گئی

چھوٹی بچی معذور باپ کا دایاں بازوبن گئی – ‘حلال’ رزق کمانے کے لئے باپ کے ساتھ رکشہ چلانا شروع کردیا۔ لوگوں کے لئے ہمت و حوصلے غربت ایک عالمی چیلنج ہے۔ اس کا خاتمہ دنیا کے بہت سے ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔

پاکستان کی بھی 25٪ آبادی اب بھی غربت کی لپیٹ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کے بہت سارے بچوں کو مزدوری پر مجبور کیا جاتا ہے کیونکہ انہیں اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرنا ہوتی ہے۔

Image Source: Facebook

ایسی ہی ایک ایک مثال حال ہی میں پاکستان میں سامنے آئی ہے۔ جہاں ایک لڑکی اپنے معذور والد کو رکشہ چلانے میں مدد کرتی دکھائی دی۔

اس واقعے کا انکشاف ایک شخص نے فیس بک پوسٹ میں کیا۔ اس شخص نے بتایا کہ اس نے آٹو رکشہ میں سفر کرنے کا فیصلہ کیا ہےاور جب وہ آٹو پر سوار ہونے لگا تو اس شخص نے دیکھا کہ ڈرائیور کی گود میں ایک چھوٹی س بچی بیٹھی ہے۔

اس نے سوچا کہ شاید بچی نے اصرار کیا ہوگا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ جانا چاہتی ہے تاہم ، جب رکشہ چلنا شروع ہوا تو اس نے دیکھا کہ وہ لڑکی رکشہ کو ریس دے رہی ہے اور اس کا والد دوسری طرف سے اسٹیئرنگ وہیل پکڑ کر اسے کچھ بتا رہا ہے۔

Image Source: Facebook

وہ شخص ان کی باتیں سنتا رہا۔ منزل تک پہنچنے کے بعد ، اس نے رکشہ ڈرائیور سے پوچھا کہ کیا اس کی بیٹی اس کے ساتھ کام کرتی ہے؟ رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ ایک بازو سے معذور تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اور اس کی بیٹی دونوں ایک ساتھ رکشہ چلاتے ہیں۔

اس شخص نے بتایا کے اسے اپنی بیٹی کا دوسروں کے گھر کی صفائی کرنا پسند نہیں اور وہ بھیک نہیں مانگنا چاہتا۔ اسی وجہ سے وہ اور اس کی بیٹی ایک ساتھ رکشہ چلا رہے ہیں۔ آٹو رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ وہ کام کرکے روزی روٹی کما رہا ہے۔ مزید یہ کہ ، وہ اور اس کا خاندان اچھی اور قابل احترام زندگی گزار رہے ہیں۔

1947 میں آزادی کے بعد سے ہی پاکستان میں غربت ایک اہم مسئلہ رہا ہے ۔2014 میں یو این ڈی پی کی ایک رپورٹ کے مطابق ، قریب 39٪ پاکستانی غربت زدہ زندگی بسر کررہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں 54.6 فیصد کے مقابلے میں شہری علاقوں میں غربت 9.3 فیصد ہے۔

بنیادی ضروریات سے زیادہ تر دیہی علاقے متاثر ہیں ۔ تقریبا 75٪ بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی مزدوری کرنے پر لگا دیا جاتا ہے۔ اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے والدین اپنے چھوٹے بچوں کو کم اجرت پر بھی کام کرنے بھیج دیتے ہیں۔

ان مستحق افراد کی مدد کرنا حکومت اور معاشی طور پر مستحکم لوگوں کا ٖفرض بنتا ہے۔ اگر کوئی معاشی طور پر مستحکم ہے تو وہ کسی بچے کو تعلیم دے کر اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس طرح سے ،آپ ایک بچے کے مستقبل کو سنوار سکتے ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago