پاکستان میں چاند کا ٹکڑا کہاں موجود ہے؟

کیا آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان میں چاند کا ٹکڑا موجود ہے تو کیا آپ اس بات پر یقین کریں گے۔چاند پر جو پاکستان کا پرچم لہرایا گیا ہے وہ بھی پاکستان میں موجود ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں کراچی میں موجود ہیں اور یہ بات ہمیں پتہ بھی نہیں ہے۔

چاند پراب تک  پاکستان کا کوئی مشن گیا تو نہیں لیکن اس کے باوجود وہاں پاکستان کا پرچم لہرایا گیا تھا اور چاند کا ایک ٹکڑا بھی یہاں موجود ہے۔

چاند کا ٹکڑا پاکستان میں کہاں موجود ہے؟

پاکستان نیشنل میوزم میں موجود یہ چاند کا ٹکڑا امریکا کی جانب سے چاند پر بھیجے جانے والے اپولو 17 کی ٹیم وہاں سے لائی تھی۔ چاند پر جانے والی امریکا کی اسی ٹیم نے اپنے دوست ممالک کے پرچم چاند پر لہرائے تھے جن میں پاکستان کا پرچم بھی شامل تھا۔

Chand ka Tukra

چاند کا ٹکڑا کس ملک نے پاکستان کو تحفے میں دیا؟

امریکا نے پاکستان کو چاند سے لایا جانے والا ایک ٹکڑا اور وہاں پر  لہرایا جانے والا پاکستانی پرچم 1973 میں پاکستان کو تحفے میں دیئے تھے اور یہ تحفے اس وقت امریکی صدر رچرڈ نکسن نے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو دیئے تھے، جو اس وقت بھی پاکستان نیشنل میوزم کراچی میں موجود ہیں۔

Chand Ka Tukra

Image Source:Conversation

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس چاند کو ہم زمین سے دیکھتے ہیں وہ داغ دار تو نظر آتا ہے لیکن سفید اور چمکدار بھی ہوتا ہے لیکن میوزیم میں رکھا چاند کا ٹکڑا کالے رنگ کا ہے۔ اس کے متعلق بات کرتے ہوئے محمد یعقوب خان کنور کا کہنا تھا کہ’سورج کی روشنی کے باعث چاند چمکتا ہے اور سفید رنگ کا نظر آتا ہے، مگر چاند پر آکسیجن نہیں ہے اور چاند کی زمین سیاہ رنگ کی ہے۔‘

اپالو17 کے خلابازوں کی ٹیم جولائی 1973ء میں کراچی میں لائی تھی، اس ٹیم کا قافلہ کلفٹن سے شروع ہوا اور زیب النسا اسٹریٹ سے ہوتا ہوا، ٹاور تک گیا تھا۔ اس راستے میں کراچی کے عوام نے سڑک کے دونوں اطراف میں کھڑے ہوکر خلابازوں کا گرم جوشی سے استقبال کیا تھا۔

چاند کے ٹٍکڑے کی قیمت کیا ہوگی؟

ماہرین کے مطابق پاکستان میں موجود چاند کے ٹکڑے کی قیمت اتنی ہی ہے جتنا اس وقت چاند پر جانے اور واپس آنے کا خرچہ ہو سکتا ہے۔ پاکستانی پرچم اور چاند کا ٹکڑا پاکستان نیشنل میوزم میں ایک تاریخی یاد کے طور پر موجود ہے یہ اس وقت پاکستان کے لئے قیمتی ثاثہ ہے۔

Image Source:Conversation

چاند کا یہ ٹکڑا اس قدر قیمتی ہے کہ مختلف ممالک میں یہ چوری کیا جاچکا ہے لیکن پاکستان میں یہ ابھی بھی محفوظ ہے اس کے علاوہ اسے تحقیقی معاملات میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Annie Shirazi

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago