تم یہاں کیوں ہو، اپنے ملک واپسی جاؤ، مجھےمسلمانوں سے نفرت ہے۔ حملہ آور

جمعہ کے روز کینیڈا کے صوبے ساسکیچیوان کے شہر سسکاٹون میں ایک اور نفرت انگیز واقعہ پیش آیا، جس میں دو نامعلوم حملہ آوروں نے پاکستانی شہری محمد کاشف کو چھری کے وار کرکے زخمی کردیا۔

اسٹار فینکس کی رپورٹ کے مطابق 32 سالہ پاکستانی شہری محمد کاشف پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ شام کو اپنے گھر لوٹ رہے تھے۔ حملہ آوروں نے جب محمد کاشف کو نشانہ بنایا تو وہ اس دوران روایتی مسلم لباس زیب تن کئے ہوئے تھے۔ حملہ آوروں نے محمد کاشف پر پیچھے سے حملہ کیا اور ان پر چیختے ہوئے کہا کہ “تم نے یہ لباس کیوں پہنا ہوا ہے؟”

Image Source: Twitter

رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں کا محمد کاشف ہراساں کرتے ہوئے کہا کہ تم یہاں کیوں ہو؟” “اپنے ملک واپس جاؤ۔ مجھے مسلمانوں سے نفرت ہے۔ حملہ آور نے مزید چیختے ہوئے کہا” اور تمہاری یہ داڑھی کیوں ہے؟” حملہ آوروں نے محمد کاشف کی داڑھی کا ایک حصہ کاٹنے سے پہلے انہوں نے ان کے بازو پر چاقو سے وار کیا۔ مقامی میڈیا نے رپوٹ کیا کہ اس حملے میں محمد کاشف کو جسم پر 14 ٹانکے آئے ہیں۔

اس موقع محمد کاشف کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کی تعداد دو نہیں شاید تین تھی اور تیسرا حملہ آور پاس کھڑی ہرے رنگ کی گاڑی میں ان کا انتطار کر رہا تھا۔ محمد کاشف نے مزید کہا کہ حملہ آوروں نے پہلے ان کے ہاتھ پر حملہ کیا اور پھر ان کے سر پر کین کی مدد سے حملہ کیا، جس سے پھر وہ اپنا توازن کھو بیٹھے اور جب انہیں ہوش آیا تو ان کا موبائل فون اور چابی وہاں موجود نہیں تھی۔

Image Source: Twitter

بعدازاں حملے کے فوری بعد افسوسناک واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سسکاٹون کے میئر چارلی کلارک نے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ شخص حملے کے باعث ناصرف ڈرا ہوا ہے بلکہ افسرده بھی ہے۔ لہذا جو گروپ سفید نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور دیگر نفرت انگیز پیغام پھیلا رہے ہیں، ان کے خلاف تحقیقات اور کاروائی کرنا ضروری ہے۔ یہی نہیں ہمیں نسل پرستی اور امتیازی سلوک کی انفرادی کاروائیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

بیس سال قبل پاکستان سے کینڈا ہجرت کرنے والے محمد کاشف نے اپنی اہلیہ اور 3،5 اور 8 سالہ بچوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس دوران پولیس کی جانب سے بھی واقعے کے حوالے کسی بھی قسم کی معلومات رکھنے والوں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔ اگرچے محمد کاشف کو کل ملزمان کی تعداد کا تو ٹھیک اندازہ نہیں تاہم لوکل میڈیا کے مطابق انہوں نے ایک ملزم کی شناخت کرلی ہے، جو انہیں پہلے بھی ڈرا دھمکا چکا تھا۔

Image Source: NY Post

واضح رہے ایسا ایک افسوسناک واقعہ 6 جون کو کینیڈا میں پیش آیا تھا، جس میں ایک دہشت گرد نے فٹ پاتھ پر کھڑے ایک پاکستانی خاندان کو ٹرک سے روند دیا تھا، یہ واقعہ صوبہ اونٹاریو کے شہر لندن میں پیش آیا تھا۔ جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور ایک 9 سالہ بچہ زخمی ہوا تھا۔ پولیس نے واقعے کو نفرت پر مبنی واقعہ قرار دیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے جان بوجھ کر متاثرہ خاندان پر ٹرک چڑھایا، کیونکہ وہ سب مسلمان تھے۔

مزید پڑھیں: بھارت میں مسلمان لڑکے پر “جئے شری رام ” کا نعرہ نہ لگانے پر بہیمانہ تشدد

یاد رہے اسلاموفوبیا کے واقعات میں دنیا بھر میں ایک غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، اس سے قبل مذہبی نفرت کا ایک بڑا واقعہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں رونما ہوا ہے، جہاں ایک آسٹریلوی نسل پرست شہری نے ایک مسجد میں داخل ہوکر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ اس واقعے کے نتیجے میں 51 نمازی شہید ہوگئے تھے

Story Courtesy: The StarPhoenix

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago