بھارت کا ایک بار پھر پاکستانی جاسوس کبوتر پکڑنے کا مضحکہ خیز الزام

بھارتی گیدڑ بھبکیوں سے آج دنیا واقف ہے، کیونکہ نتیجہ آخر میں بھارت کی جگ ہنسائی پر ہی ختم ہوتا ہے۔ یہی وجہ یے کہ دنیا اب بھارت کے کسی دعوے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی ہے لیکن بھارت بھی کیا کرے عادت سے جو مجبور ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے خلاف وہ ہی پرانا گھسا پٹا دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بارڈر کے قریب ایک پاکستانی جاسوس کبوتر کو پکڑا ہے، جس کے پیروں میں مشکوک پیپر بندھا ہوا تھا۔

انڈیا ٹو ڈے کے مطابق 17 اپریل کو پاکستانی علاقے واہگہ سے ایک سفید اور کالے رنگ کا کبوتر آڑتا ہوا، بھارتی علاقے روانوالہ یعنی پاکستان سے 500 کلو میٹر دور آیا اور ڈیوٹی پر مامور بھارتی پولیس کانسٹیبل نیرج کمار کے کندھے بیٹھ گیا تھا۔ جس پر پولیس کانسٹیبل نیرج کمار نے فوری طور پر کبوتر کو پکڑا اور پوسٹ کے کمانڈر اومپال سنگھ کو اطلاع دی۔

Image Source: Twitter

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بھارتی کمانڈر نے جب کبوتر کی جانچ اور تلاشی لی، تو اسے ایک کاغذ کی پرچی پر ایک نمبر لکھا ہوا ملا، جو 0302 سے شروع ہوتا ہے، جبکہ مذکورہ نمبر کبوتر کی بائیں ٹانگ پر ایک ٹیپ کے ذریعے باندھا گیا تھا۔

بعدازاں بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے امرتسر میں خں گڑھ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او سے درخواست کی یے کہ وہ کبوتر کے خلاف ایف آئی آر درج کریں۔ ساتھ ہی زیر حراست کبوتر کو بھی پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

Image Source: India Today

اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے بھارتی سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دھروف ڈاہینا کا کہنا ہے کہ ایک پرندے کے خلاف مقدمہ کیسے درج کیا جاسکتا ہے اس بارے قانونی ماہرین سے رائے مانگی گئی ہے جب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوجاتا مبینہ جاسوس کبوتر پولیس کی تحویل میں ہی رہے گا۔

یہاں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہندوستانی حکومت اور سیکیورٹی فورسز کسی بھی اس چیز سے بہت زیادہ خوفزدہ ہیں جس کا تعلق پاکستان سے ہے۔ سال 2017 میں، ہندوستانی افواج نے ایک کبوتر کو پکڑا جس پر مبینہ طور پر پاکستانی جاسوس ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس دوران بھارتی اہلکاروں کو مبینہ پاکستانی جاسوس کبوتر پر نگاہ رکھنے کی ذمہ داری پر لگایا گیا تھا۔ لیکن نہ صرف کبوتر ہندوستان سے بچ گیا، بلکہ بھارتی جگ ہنسائی اور اس وقت ہوئی جب وہ کبوتر اڑ کر پاکستان آگیا۔

Image Source: India Today

واضح رہے بھارت کی جانب سے ایسی من گھڑت اور بے تکی باتیں پہلے بھی کئی بار کی جاچکی ہیں، جس کی مثال گزشتہ ماہ کا واقعہ بھی ہے، جس میں مقبوضہ کمشیر بھارتی فورسز نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے نام سے طیارے کے سائز والے بیلون کو ضبط کیا! لیکن انتظار کری ۔ جبکہ اس سے قبل بھارت نے اپنی حدود میں کچھ آڑتے ہوئے غبارے دیکھ کر بھی پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

یہی نہیں چند برس قبل بھارتی سیکورٹی فورسز نے اپنی ملکی حدود سے کچھ غبارے اپنی تحویل میں لئے تھے، ان غباروں کو پٹھان کوٹ کے علاقے میں ایک بھارتی کسان نے دیکھا تھا، جس پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر بنی ہوئی تھی اور پاکستان زندہ باد لکھا ہوا تھا۔ جس بھارتی انتظامیہ نے انہیں پاکستان کے خلاف جوڑنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

Story Courtesy: India Today

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago