ڈرامہ کبھی میں کبھی تم کے صارفین کی جانب سے ڈرامہ ڈائریکٹر کو بددعائیں دی جانے لگیں
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں اس وقت اگر کوئی ڈرامہ ناظرین کے دلوں پر راج کررہا ہے تو وہ ڈرامہ کوئی اور نہیں بلکہ پاکستانی شوبز انڈسٹری کے کامیاب اداکار فہد مصطفٰی اور ہانیہ عامر کا نجی ٹی وی چینل سے نشر ہونے والا ڈرامہ ’کبھی میں کبھی تم‘ ہے۔
کبھی میں کبھی تم کی اب تک 31 اقساط آن ایئر ہو چکی ہیں ڈرامے کی ہر قسط میں جہاں مداح مصطفیٰ، شرجینا، رباب اور عدیل کے کردار سے لطف اندوز ہو رہے تھے مگر ا ب ڈرامہ اپنے اختتام کے قریب گامزن ہے
کبھی میں کبھی تم “کی نتاشا کو کیسے مرد پسند ہیں؟”
ڈرامے میں جہاں اداکارہ نعیمہ بٹ عرف رباب، عماد عرفانی عرف عدیل اور مصطفٰی اور شرجینا کے کردار نبھانے والے اداکاروں کے جوڑے فہد مصطفٰی اور ہانیہ عامر کو بہت زیادہ پسند کیا جارہا ہے وہیں لگتا ہے کہ ڈرامے کے ڈائریکٹر بدر محمود مداحوں کو کچھ خاص سمجھ نہیں آئے۔
کبھی میں کبھی تم کی حالیہ ایپی سوڈ کے نشر ہونے کے بعد مداحوں کی جانب سے ڈرامہ سیریل کے ڈائریکٹر بدرمحمود کے انسٹاگرام کا رُخ کرتے ہوئے انہیں محبت کے سات مراحل دکھاتے ہوئے آخری مرحلہ جوکہ ‘موت‘ ہے، اُس کی عکاسی کرتےہوئے شرجینا کی موت دکھانے پر دھمکی آمیز میسیجز کردیے گئے۔
ہدایت کار نے انسٹاگرا کا رُخ کرتے ہوئے مداحوں سے ایک میسیج شیئر کیا جس میں ایک صارف نے انہیں دھمکیاں دیتے ہوئے بد دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہیلو سر اگر آپ نے سیریل کا اختتام شرجینا کی موت پر کیا تو میں بد دعا دیتے ہوں کہ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو‘۔
اس بات کا اختتام یہیں نہیں ہوا بلکہ مزید لکھتے ہوئے کہا کہ ‘اگر شرجینا اگلی قسط میں مصطفٰیٰ کو وہ سب بتائے بنا مر گئی جو وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے محسوس کررہی تھی تو میری بددعا ہے کہ آپ بھی کبھی خوش نہ رہیں‘۔
بابر محمود کی جانب سے انسٹاگرام پر موصول ہونے والے میسیجز کو مداحوں سے شیئرکرتے ہوئے لکھا گیا کہ ‘آج کل میں اس صورتحال سے نمٹ رہا ہوں‘۔
واضح رہے کہ ڈرامہ سیریل کبھی میں کبھی تم کی 32ویں قسط بہت انٹرسٹنگ موڑ کے ساتھ نشر ہوگی جس کا مداح انتہائی بے صبری سے انتظار کررہے ہیں۔
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…
پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…
کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…
14 شعبہ جاتِ اطفال پر مشتمل 88 شواہد پر مبنی طبی رہنما اصولوں پر مشتمل…
پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…
پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…