بابری مسجد کے بعد مزید2مساجد کو مندر بنانے کیلئے مہم شروع

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ایک اور مہم کا آغاز کردیا گیا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور حکومت میں جہاں بھارتی سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی قدیم بابری مسجد کو یکطرفہ فیصلے میں ہندؤں کے حوالے کردیا وہیں اب ہندوں انتہا پسندوں کی جانب سے بھارت میں میں مزید دو مساجد کو ہتھیانے کیلئے باقاعدہ مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مودی دور حکومت میں جہاں مسلمانوں پر بے انتہاء ظلم و ستم ہورہا ہے وہیں مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر حملوں سے لیکر جتھوں کی صورت میں مسلمان لوگوں پر حملے تو تقریباً روز کا معمول بن چکے ہیں۔ مسلمان ابھی ان ہی صورتحال سے پریشان تھے کہ اب اچانک انتہاء پسند ہندوئوں کی جانب سے ایک نئی مہم کا آغاز کردیا گیا۔ جس میں انہوں نے مسلمانوں کی مزید دو تاریخی مساجد کو ہتھیانے کے لئے اپنے ناپاک عزائم کا استعمال شروع کردیا ہے۔

Image Source:booksfact.com

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر بنارس کی تاریخی گیان واپی مسجد اور بھارتی ریاست کرنا ٹکا کے شہر میسور میں واقع میتھرا عیدگاہ کے خلاف مہم شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا ہے۔ اس مہم کی سربراہی اکھل بھارتیہ اکھاڑہ پریشد کررہی ہے۔

اس حوالے سے بھارتی شہر الہ آباد میں بھارتیہ اکھاڑہ پریشد کا اجلاس منعقد ہوا جہاں ایک قرارداد منظور کی گئی جس کے مطابق بنارس میں واقع گیان واپی مسجد کی جگہ کاشی وشوناتھ مندر بنانے کا ارادہ کیا گیا جبکہ مسور شہر میں واقع میتھرا عیدگاہ کی جگہ کرشنا کی جنم بھومی کو بھی آزاد کرانے کیلئے بھی مہم شروع کرنے کا ارادہ کیا گیا۔

اس موقع پر بھارتیہ اکھاڑہ پریشد کے سربراہ سادھو سنتوں کا کہنا تھا کہ وہ پہلے اس تمام معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں گے البتہ ناکامی کی صورت میں قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اس بات کا بھی ارادہ کیا کہ وہ اس پورے معاملے میں وی ایچ پی اور آر ایس ایس سے بھی تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔

خیال رہے یہ دنوں تاریخی مساجد بھارت کی الگ الگ ریاستوں میں قائم ہیں جن میں گیان واپی مسجد اتر پردیش میں واقع ہے جبکہ میتھرا عیدگاہ بھارتی ریاست کرناٹکا میں واقع ہے، تاہم دنوں ریاستوں میں انتہاء پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہی حکومت قائم ہے۔ اس سلسلے میں کرناٹکا کے ایک وزیر کے ایس ایشورپایہ پہلے ہی مسلمانوں کو دھمکی دے چکے ہیں کہ آج نہیں تو کل متھرا اور کاشی کے مندروں کو آزاد کراکر وہاں عالیشان مندر تعمیر کئے جائیں گے۔

یاد رہے اترپردیش میں واقع گیان واپی مسجد اور میتھرا عیدگاہ مسجد کا شمار برصغیر کی تاریخی مساجد میں سے ہوتا ہے۔ جنہیں مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ تاہم اب ان مساجد کے خلاف بھارت میں انتہاء پسندوں کی طرف سے مہم کا آغاز کردیا گیا ہے، جن میں مسجد کے بدلے مندر بنانے کے ناپاک عزائم شامل ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago