عائشہ زہری نے بلوچستان کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر بننے کا اعزاز حاصل کرلیا

اس وقت سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے پورے ملک میں جہاں لوگ رضاکارانہ طور پر سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے آگے آرہے ہیں وہیں کچھ فرض شناس افسران ایسے بھی ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت صرف لوگوں کو ریلیف پہچانے کے لئے دن رات پوری تندہی کے ساتھ اپنا کام کرنے میں مصروف ہیں۔ بلوچستان میں اسسٹنٹ کمشنر مچھ عائشہ زہری کا شمار بھی ایسے ہی افسران میں ہوتا ہے۔تاہم ان کی بہترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ان کو اسسٹنٹ کمشنر سے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد ڈویژن پر تعینات کردیا ہے۔ اس طرح وہ بلوچستان میں اس عہدے پر پہنچنے والی پہلی خاتون ہیں ،اس سے پہلے وہ ڈپٹی سیکرٹری آب پاشی تعینات تھیں۔

واضح رہے کہ عائشہ زہری نے 26 اگست کی طوفانی بارش کے بعد ناصرف کم وسائل میں رضا کاروں کی مدد سے بولان میں پھنسے سینکڑوں مسافروں کو ریسکیو کیا تھا اور بروقت پانی اور خوراک پہنچا کر کئی مسافروں کی جانیں بھی بچائی تھیں بلکہ ریلیف کیمپوں میں سیلاب زدگان کے لیے خاطر خواہ انتظامات کو بھی یقینی بنایا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار 4 ستمبر کو بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ ضلع کچھی کے دورے کے دوران بولان کے علاقے میں پنجرہ پل کا دورہ کیا تھا۔

Image Source: Twitter

اس موقع پر وزیراعظم نے اسسٹنٹ کمشنر مچھ انجینئر عائشہ زہری کو سیلابی صورتحال کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر خوب سراہا اور سر پر ہاتھ رکھ کر شاباش دی، انہوں نے فرض شناس افسر کے لئے تالیاں بھی بجائی تھیں۔اس کے علاوہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر ٹویٹ کرکے  بھی عائشہ زہری کی تعریف کی تھی اور ان کی کارکردگی کو سراہا تھا۔

اس سے قبل نصیرآباد ڈویژن کے کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز کو معطل کردیا گیا تھا۔ جہاں اب عائشہ زہری کو تعینات کیا گیا ہے۔ نصیرآباد ڈویژن کی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیوں میں سست روی پر نکالا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کہتے ہیں کہ عائشہ زہری کی تعیناتی صوبے کی خواتین کی صلاحیتوں پراعتماد کا اظہار ہے۔

دیکھا جائے تو ہمارے ملک کی خواتین ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہی ہیں، وہ شعبے جن کا انتخاب پہلے صرف مردوں تک محدود تھا اور خواتین ان میں شمولیت اختیار نہیں کرتی تھیں آج ان شعبوں میں بھی وہ بھرپور انداز میں اپنے مہارت کے جوہر دکھا رہی ہیں۔ خاص طور پر محکمہ پولیس میں خواتین کی نمائندگی بڑھتی جارہی ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے ان ہی خواتین میں ایک نڈر پولیس اہلکار رافعیہ قسیم بیگ بھی ہیں جو کہ پاکستان محکمۂ پولیس میں بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی او) کا حصہ بننے والی پہلی پاکستانی اور ایشیائی خاتون ہیں۔

رافعیہ نے اپنے کیرئیر کا آغاز صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمۂ پولیس سے بطور کانسٹیبل کیا اور پھر نوشہرہ کے اسکول آف ایکسپلوسو ہینڈلنگ سے 31 مرد اہلکاروں کے ہمراہ بموں کی اقسام، شناخت اور ناکارہ بنانے کی تربیت حاصل کی۔ بم ناکارہ بنانا کے علاوہ وہ مشین گن اور راکٹ لانچر چلانے میں بھی ماہر ہیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago