پاکستانی امپائر علیم ڈار نے ایک بار پھر قوم کا سر فخر سے بلند کردیا


0

کرکٹ کے میدان سے پاکستان کے لئے ایک بڑی خبر، یوں تو پاکستان کرکٹ ٹیم نے دنیائے کرکٹ کو اس کھیل میں بہترین بلے بازوں، زبردست فاسٹ باؤلرز اور نڈر وکٹ کیپرس کی صورت میں اس کھیل کی خوبصورتی میں چار چاند لگائے ہیں تاہم اس کھیل میں کچھ ایسے ستارے بھی ہیں جن کی خدمات کے بغیر یہ کھیل شاید ممکن ہی نہ ہوسکے یعنی میچ میں امپائرنگ کے فرائض سرانجام دینے والی شخصیات۔ جن کے کندھوں پر سب سے اہم ذمہ داریاں سونپی ہوتی ہیں۔

انہی عالمی سطح کے امپائرز کی بات کی جائے تو پاکستان نے اس میں بھی بڑے نام پیدا کئے ہیں تاہم علیم ڈار ایک ایسا نام ہے جس کے بغیر شاید امپائرز کا کسی بھی قسم کا تذکرہ نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

علیم ڈار کا شمار جہاں عالمی کرکٹ کے ادارے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے سب سے بہترین اور کامیاب امپائرز میں ہوتا ہے وہیں اتوار کے روز روالپنڈی میں ہونے والے پاکستان اور زمبابوے سریز کے دوسرے میچ میں امپائرنگ کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے علیم ڈار نے کرکٹ کی تاریخ کا ایک اور سنگ میل عبور کرلیا ، علیم ڈار اب ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ میچ سپروائز کرنے والے امپائر بن گئے ہیں، پاکستان بمقابلہ زمبابوے ان کے کیرئیر کا 210 واں ون ڈے میچ تھا۔ اس قبل یہ عالمی ریکارڈ جنوبی افریقی امپائر روڈی کورٹزن کے پاس تھا۔

عالمی کرکٹ کے ادارے آئی سی سی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر جاری کردہ پیغام میں جہاں اس سنگ میل کو عبور کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا وہیں دنیا کے تاریخ میں سب سے زیادہ میچ سپروائز کرنے والے امپائروں کی ایک فہرست بھی جاری کی جس میں 210 میچز کے ساتھ پاکستانی امپائر علیم ڈار پہلے، جبکہ روڈی کورٹزن 209 کے ساتھ دوسرے، نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے بلی باؤڈن 200 میچز کے ساتھ تیسرے، ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے اسٹیو بکنر 181 اور آسٹریلوی امپائرز ڈرال ہاپر اور سامن ٹاوفل 174 میچز کے ساتھ پانچویں نمبر پر براجمان ہیں۔

اس موقع پر آئی سی سی کی جانب سے پاکستانی امپائر علیم ڈار کا ایک پیغام بھی شئیر کیا گیا، جس میں انہوں بتایا کہ یہ ان کے لئے انتہائی فخر کی بات ہے کہ وہ ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ میچز سپروائز کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ البتہ جب میں نے یہ سفر شروع کیا تھا، مجھے نہیں پتہ تھا میں یہاں تک پہنچوں گا۔ لہذا وہ یہاں ایک ہی بات بولیں گے کہ وہ فیلڈ پر ہر لمحہ انجوائے کرتے ہیں جبکہ ساتھ ہی سیکھنے کا عمل جاری ہے جو کہ ہمیشہ چلتے رہنے والا عمل ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اس موقع پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے کہ انہوں نے ہمیشہ مجھے سپورٹ کیا۔ اس دوران انہوں نے اپنے تمام ساتھی امپائرز کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہمیشہ ان کی مدد کی اور میرا ساتھ دیا۔

واضح رہے علیم ڈار نے ایک طویل عرصے تک پاکستان کی جانب سے بطور آل راؤنڈر فاسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ہے بعدازاں علیم ڈار امپائرنگ کے شعبے کی طرف مائل ہوگئے، چنانچہ فروری 2000 میں آئی سی سی کی جانب سے گجرانوالہ میں پاکستان بمقابلہ سری لنکا میچ میں پہلی بار امپائرنگ کے فرائض سرانجام دیئے۔

پاکستانی امپائر علیم ڈار کی کرکٹ کے میدان میں خدمات کو جہاں دنیا سراہا رہی ہے وہیں پاکستانی شائقین کرکٹ کی جانب سے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر کافی خوشی کا اظہار کیا جارہا ہے اور انہیں مبارکباد کے خوبصورت پیغامات بھیجنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

یاد رہے 52 سالہ پاکستانی امپائر علیم ڈار گزشتہ 16 برس سے آئی سی سی کے امپائرز کے ایلیٹ پینل میں شامل ہیں۔


Like it? Share with your friends!

0

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *