والدین کی لاپرواہی، کم عمر بچے سڑک پر گاڑی لے آئے اور ایکسیڈنٹ کردیا

دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لیے کم از کم عمر 18 سال ہے، لیکن افسوس ہمارے ملک میں اس ضابطے کی خلاف ورزی ایک عام سی بات ہے۔ حالیہ وائرل ہونے والی ویڈیو اس بات کا ثبوت ہے کہ کم عمر میں ڈرائیونگ کو ہمارے معاشرے میں ایک فخر کی بات بھی تصور کی جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ماڈل کالونی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی حیرت انگیز اور خوفناک واقعہ پیش آیا، جہاں 12 سالہ بچہ ناصرف ہائبریڈ گاڑی روڈ پر چلاتے ہوئے دیکھا گیا بلکہ ایک مقام پر گاڑی بےقابو ہوکر دوسری گاڑی سے بھی جا ٹکرائی۔

Image Source: File

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کم عمر لڑکا روتا ہوا اور گاڑی کے مالک سے معافی مانگتا دکھائی دے رہا ہے۔ 5 دیگر کم عمر بچوں کو بھی گاڑی میں روتے ہوئے دیکھا کہ جاسکتا ہے۔ بچے کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنے والد سے گاڑی چلانے کی اجازت لیکر آیا تھا۔

اس دوران جب متاثرہ گاڑی کے مالک کی جانب سے بچے کو گاڑی روکنے کو کہا گیا تو اس نے ڈینگیں مارنا شروع کردی کہ اس کا باپ پولیس والا ہے اور وہ میمن گوٹھ سے آ رہے ہیں۔ بعد ازاں تباہ شدہ گاڑی کے مالک نے پولیس کو اطلاع دی ، جو موقع پر پہنچی اور تمام بچوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

Image Source: File

پولیس نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ بچوں کو وارننگ دیکر اور بعد چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ بچوں کے والدین نے دوبارہ بچوں کو گاڑی نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یہاں یہ بات افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتی ہے کہ ہم عموماً ہم کم عمر بچوں کو بغیر کسی ڈر وخوف کے گاڑیاں چلاتے ہوئے سڑکوں پر دیکھتے ہیں، یہ بچے ناصرف اپنی جان کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہوتے ہیں بلکہ ان کی وجہ سے سڑک پر موجود دیگر افراد کو بھی جان خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ لہذا یہاں والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو وقت سے پہلے گاڑیاں چلانے کی اجازت نہ دیں، کیونکہ خدانخواستہ کل کوئی بھی مصیبت سامنے آئی تو بچے اور والدین دونوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں دیکھا گیا تھا کہ ان کا کم عمر بیٹا گاڑی چلا رہا یے اور وہ برابر میں بیٹھے ہیں، جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا بعدازاں وفاقی وزیر نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹریفک قوانین روڈوں، ہائی ویز اور موٹر ویز پر لاگو ہوتے ہیں لہذا کوئی بھی قانون نہیں توڑا گیا ہے، اپنے علم کو بہتر کریں، یہ میری اپنی زمین ہے، میری اپنی گاڑی ہے اور میرا اپنا بچہ ہے۔

یاد رہے ایسا ہی ایک واقعہ چند ماہ قبل ملتان میں دیکھا گیا تھا، جہاں ایک چھے سالہ بچہ ملتان شہر کی مصروف ترین شاہراہ پر بوسان روڈ پر لینڈ کروزر چلاتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل رہی تھی، بعدازاں پولیس نے بچے کو تلاش کرکے والد کو حراست میں لے لیا، جبکہ دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی تھی کہ بچے کو آئسکریم کھانے کا دل کررہا تھا، والد کو سوتا ہوا دیکھا کر وہ بغیر بتائے گاڑی چلاتے ہوئے نکل گیا تھا

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

محکمہ صحت سندھ، لمز اور آغا خان یونیورسٹی کا بنیادی صحت کے نظام تک ماں اور بچوں کی صحت کے لیے قومی مصنوعی ذہانت مرکز لانے کے تاریخی معاہدے پر دستخط

عائشہ سلمان، گیٹس فاؤنڈیشن، پروگرام آفیسر؛ ڈاکٹر زہرا ہڈبھائے، آغا خان یونیورسٹی، ایسوسی ایٹ پروفیسر؛…

2 weeks ago

Coke Studio Nu.WAVکا نیا گانا ’رنگین‘ ریلیز

لاہور (نمائندہ خصوصی) Coke Studio Nu.WAV نے اپنے موسیقی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے…

3 weeks ago

2026 SIMPACT میں طبی تعلیم کے لیے سیمولیشن میں مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت حاصل

: آغا خان یونیورسٹی (AKU) کے سینٹر فار انوویشن اِن میڈیکل ایجوکیشن (CIME)، کراچی نے…

3 weeks ago

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کا پہلا گانا ’دل‘ ریلیز، افیوسک (Afusic)اور زوہا وسیم کی آوازوں کا خوبصورت امتزاج

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے سفر کا آغاز پہلے گانے ’دل‘ کی ریلیز سے کردیا،…

1 month ago

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ اور سٹی پاکستان نے سپلائر فنانسنگ اور سپلائی چین کی مضبوطی کے لیے شراکت داری کی

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) نے اپنے سپلائرز کے لیے سٹی پاکستان کے Citi®…

1 month ago