دو سال کے بچے نے ہزاروں ڈالرز کی آن لائن شاپنگ کرلی

امریکا کی ریاست نیوجرسی میں ایک خاتون اس وقت حیران رہ گئیں جب 2 ہزار ڈالر کا سامان آن لائن خریداری کے زریعے ان کے گھر کے دروازے پر پہنچا لیکن یہ آرڈر خاتون نے نہیں دیا بلکہ ان کے موبائل سے ان کے دو سالہ بیٹے نے دیا تھا۔

میں چھوٹا سا ایک بچہ ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑے ، دو سالہ ننھے ایانش نے اس بات کو سچ کر دیکھایا۔ این بی سی میں شائع ہونیوالی رپورٹ کے مطابق مدھو کمار نامی خاتون نے فرنیچر کی کچھ اشیاء خریدنے کے لیے کمپنی کی ویب سائٹ چیک کی تاہم کوئی چیز نہیں خریدی، لیکن خاتون اور ان کے شوہر کو حیرت کا جھٹکا اس وقت لگا جب ان کے گھر پر دو ہزار ڈالرز مالیت کا سامان پہنچا دیا گیا۔

Image Source: Unsplash

اس حوالے سے مدھو کمار کا کہنا ہے کہ ان کا خیال تھا کہ شاید آرڈر ان کے شوہر یا دو بڑے بیٹوں میں سے کسی نے دیا ہو، تاہم جب ان سے پوچھا تو انہوں نے لاعلمی ظاہر کی۔ مزید تحقیق پر یہ بات کھلی کہ آرڈرز ان کے دو سالہ بیٹے ایانش نے دئیے تھے۔ ایانش کے والدین کو یقین ہے جب وہ ماں کے موبائل فون کے ساتھ کھیل رہا تھا تبھی اس نے دو ہزار ڈالر کی اشیاء کا آرڈر دے دیا تھا۔ ان کے والد پرامود کمار کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود جا کر سامان کو چیک کیا اور جب ادائیگی کا خانہ دیکھا تو اس کے لیے ادائیگی بھی کی جا چکی تھی۔

Image Source: Facebook

دو سالہ ایانش کی جانب سے آن لائن آرڈر کیا گیا یہ سامان ایک ہفتے تک ان کے گھر آتا رہا، جس میں کرسیاں، گل دان اور کچھ دوسری چیزیں شامل تھیں، جن کو اب مدھو کمار نے گھر میں سجا رکھا ہے۔ اپنے بیٹے کی اس آن لائن شاپنگ پر مدھو کمار کہتی ہیں وہ بہت چھوٹا ہے، وہ بہت پیارا ہے، ہم اس پر ہنس رہے ہیں کہ اس نے ان تمام چیزوں کا آرڈر دیا۔ مدھو کمار کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ جو چیزیں ان کو پسند ہیں وہ رکھ لیں گے جب کہ باقی واپس کر دیں گے۔ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئندہ وہ اپنے فون لاک کر کے رکھیں گے۔ انہوں نے این بی سی کو بتایا کہ اب ہم پاس کوڈز ڈالیں گے یا پھر چہرے کی شناخت کا آپشن استعمال کریں گے۔

اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ پہلے بھی پیش آچکا ہے جسمیں اسابیلا میک نیل نامی خاتون کی دوسالہ بیٹی نے آن لائن آرڈر کرکے صوفہ منگوالیا تھا۔ہوا کچھ یوں تھا کہ یہ خاتون اپنے گھر کے لیے ایک کاؤچ (چھوٹا صوفہ) خریدنے کی خواہش مند تھیں اور اپنے اسمارٹ فون میں ان کاؤچ کی تصاویر دیکھ رہی تھیں کہ ان کی دو سالہ بیٹی رئنا نے ان سے فون مانگا تو انہوں نے فون بیٹی کو دے دیا اور وہ گھر کے دیگر کاموں میں مگن ہوگئیں۔ کچھ دنوں بعد اسابیلا کواپنے اسمارٹ فون پر ایک پیغام موصول ہوا جس میں لکھا ہوا تھا کہ ’آپ کا تین سیٹر صوفہ آپ کے گھر پہنچنے والا ہے‘، یہ پیغام پڑھنے کے بعد خاتون حیران ہوگئیں اور یہ سوچنے پر مجبور ہوگئیں کہ کہیں انہوں نے نیند میں تو صوفہ نہیں منگوالیا؟ مگر کافی سوچنے کے بعد انہیں یاد آیا کہ انہوں نے اپنا موبائل فون اپنی دو سالہ بیٹی رئنا کے ہاتھ میں دیا تھا جس میں آن لائن شاپنگ ایپ کھلی ہوئی تھی اس لئے آرڈر ہوگیا۔

مزید پڑھیں: پاکستانی نوجوان کا اپنی سابقہ گرل فرینڈ سے انوکھا بدلہ

آج کل چھوٹے چھوٹے بچے بھی بڑی مہارت سے موبائل فون آپریٹ کر لیتے ہیں۔ اس لئے والدین کو چاہیے کہ موبائل فون استعمال کرنے کے بعد ہسٹری کو یاد سے ڈیلیٹ کردیا کریں کیونکہ پھر انہیں بھی ویسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جیسے مذکورہ ماؤں کو کرنا پڑا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کا پہلا گانا ’دل‘ ریلیز، افیوسک (Afusic)اور زوہا وسیم کی آوازوں کا خوبصورت امتزاج

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے سفر کا آغاز پہلے گانے ’دل‘ کی ریلیز سے کردیا،…

1 week ago

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ اور سٹی پاکستان نے سپلائر فنانسنگ اور سپلائی چین کی مضبوطی کے لیے شراکت داری کی

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) نے اپنے سپلائرز کے لیے سٹی پاکستان کے Citi®…

2 weeks ago

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

4 weeks ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

1 month ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

1 month ago