خواجہ سراماڈل رمل علی پر تشدد، سر اور بھنوؤں کے بال مونڈ دئیے

تیسری جنس یعنی خواجہ سرا معاشرے کی وہ مظلوم مخلوق ہیں جنہیں معاشرے میں کوئی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ خدا کی اس مظلوم جنس کو معاشرہ تو بعد کی بات ہے، ان کو تو ان کے اپنے ہی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے، مار پیٹ اور جنسی استحصال بچپن سے ہی ان کا مقدر بن جاتا ہے اور انھیں معاشرے میں ہر جگہ تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بلاشبہ پاکستان میں خواجہ سراؤں نے اپنے حقوق کے لیے بہت کوششیں کیں لیکن ہر بار ناکام رہے اور ساتھ ساتھ تشدد کا بھی شکار ہوئے ہیں۔ تشددکا ایسا ہی ایک دلخراش واقعہ لاہور میں خواجہ سرا ماڈل رمل علی کے ساتھ پیش آیا ہے جس میں ملزم نے ان کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے بھنویں اور سر کے بال کاٹ دیئے۔
ماڈل رمل علی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں جہانزیب خان نامی شخص پر تشدد کا الزام لگایا ہے۔

Image Source: Instagram

ان کا کہنا ہے کہ جہانزیب نے میری بھنویں اور سر کے بال کاٹ دئیے، میرے جسم پر سگریٹ لگاتے رہے، میری جان کو خطرہ ہے، کچھ ہوا تو ذمہ دار جہانزیب خان ہوگا۔

ماڈل رمل علی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہانزیب قتل کے چار مقدمات میں مطلوب ہے، اس کی وجہ سے مجھے آئے روز تشدد کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، میرے ساتھ ہونے والے ظلم کا نوٹس لیا جائے اور مجھے انصاف دلایا جائے۔ رمل علی نے وزیراعظم عمران خان سے واقعہ کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

Image Source: Instagram

اپنی جاری کردہ ویڈیو پیغام میں ماڈل نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ جہانزیب نامی آدمی سے بھاگنے کے لئے کس طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ جارہی ہیں۔لیکن اس کے باوجود وہ انہیں ڈھونڈکےتشدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ ذہنی وجسمانی طور پر بھی ان کا استحصال کررہا ہے۔ رمل علی نے یہ بھی بتایا کہ تشدد کی وجہ سے کس طرح گزشتہ سالوں میں چار سو سے زیادہ ٹرانسجنڈر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ زندہ جلائے جانے سے لے کر عصمت دری اور قتل کیے جانے تک ایک بھی ٹرانسجینڈر کو انصاف نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے۔

Image Source: Instagram

انہوں نےاپنے ویڈیو پیغام میں الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری عصمت دری کی گئی ہے مجھے ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے مجھے شوبز انڈسٹری میں کام کرنے سے روکا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ ماڈل رمل علی نے فلمز، ٹی وی اور فیشن انڈسٹری کے لیے بے پناہ کام کیا اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کی اور بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے بھی انہیں سراہا گیا۔

اس کے علاوہ وہ پاکستان کی پہلی ٹرانسجینڈر اداکارہ بھی ہیں جن کو فلم ”سات دن محبت ان“ میں کاسٹ کیا گیا اور اس فلم کے آئٹم سونگ سے وہ بڑی اسکرین پر جلوہ گر ہوئیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago