امیر ہو یا غریب ہر مسلمان کے لئے “عید کا دن “ باعث مسرت ہوتا ہے اور ہر کسی کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے عمل سے دوسرے مسلمان کو خوش کردے۔ جس طرح عید الالضحٰی میں ہم قربانی کے گوشت بانٹ کر اپنے رشتے داروں ،دوستوں کو اپنی خوشی میں شامل کرتے ہیں بالکل اسی طرح عید الفطر کے موقع پر “عیدی “کی روایت میٹھی عید کی خوشیاں کو مزید بڑھا دیتی ہے ۔چھوٹے بڑوں سبھی کو “عیدی” لینے اور دینے کی خوشی ہوتی ہے اور ہر کوئی اپنی حیثیت کے مطابق اپنے سے چھوٹوں کو عیدی دیتا ہے اور چھوٹے اسے خوشی سے قبول کرتا ہے۔
ایسے میں سوچیں کہ اگر عید کے دن آپ راستے سے گزرتے ہوئے کسی پولیس اہلکار سے عید مانگ بیٹھیں اور وہ غیر متوقع طور پر بڑی خوش دلی سے آپ کو عیدی دیدیں تو آپ کی خوشی تو یقینا ًدوبالا ہوجائے گی۔
محکمہ پولیس کو ہمارے معاشرے میں عموماً تنقید کا سامنا رہتا ہے اور ان کے بارے میں عام خیال یہی پایا جاتا ہے کہ وہ عوام سے رشوت لیتے ہیں اور بغیر سفارش کے کوئی کام نہیں کرتے لیکن جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں اسی طرح ہر محکمہ میں اچھے اور برے لوگ موجود ہیں اور ان اہلکاروں میں بھی انسانیت کا جذبہ موجود ہے ۔عیدالفطر کے موقع پر کراچی کے ایک ٹریفک کانسٹیبل نے اس بات کو سچ ثابت کر دیکھایا۔
ہوا کچھ یوں کہ شہر قائد کے منچلے نوجوانوں نے کلفٹن کے علاقے بوٹ بیسن پر ٹریفک سنگل کھلنے کے دوران وہاں موجود ٹریفک کانسٹیبل سے عیدی مانگی اور غیر متوقع طور پر اس اہلکار نے خوشدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیب سے لفافہ نکالا اور کار میں سوار ان لڑکوں کو عیدی دی جس پر سبھی لڑکے خوش ہوگئے اور اہلکار کا شکریہ ادا کیا۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسان چاہے امیر ہو یا غریب اس کا پیشہ ، عہدہ یا پیسے اسے بڑا نہیں بناتا بلکہ اس کا اخلاق اسے دوسروں کی نظروں میں معتبر بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پولیس کانسٹیبل کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہی ہے اور پولیس اہلکار کے اس اقدام کو کافی سراہا جا رہا ہے ۔
خیال رہے کہ کچھ دنوں قبل موٹر وے پولیس نے ایمانداری کی بہترین مثال قائم کرتے ہوئے قیمتی گمشدہ پرس فیملی کے حوالے کر دیا۔ شہری اپنی فیملی کے ہمراہ سیالکوٹ سے فیصل آباد کی جانب سفر کر رہے تھے کہ دوران سفر انہوں نے شیخوپورہ ریسٹ ایریا میں قیام کیا جہاں ان کا قیمتی پرس گم ہو گیا۔ فیملی نے پرس غائب ہونے کی شکایت پولیس ہیلپ لائن 130 پر درج کرائی تھی جس کے بعد ان کی شکایت پر فوری کارروائی کی گئی۔ ترجمان نے بتایا کہ پرس میں 5 تولے سونا، 2 لاکھ 16 ہزار روپے نقدی، 50 ہزار روپے مالیت کا موبائل فون اور اہم کاغذات تھے جو متعلقہ فیملی کے سپرد کر دیا گیا۔
علاوہ ازیں ،کراچی کی ایک خاتون نے بھی فیس بک کے ایک گروپ پر اپنی پوسٹ کے ذریعے پولیس اہلکاروں کی تعریف کی تھی۔ خاتون کے مطابق ان کی فلائٹ تھی اور وہ ائیرپورٹ کی جانب رواں دواں تھیں کہ دوران سفر اچانک ان کی گاڑی خراب ہوگئی تو وہاں موجود چار پولیس اہلکار ان کی مدد کو آگئے اور گاڑی کو ٹھیک کرنے کی کوششیں کیں لیکن گاڑی ٹھیک نہ ہوئی تو آن لائن کار سروس بلانی پڑی اور جب تک کار نہیں آئی وہ پولیس اہلکار ان کی اور سامان کی حفاظت کرتے رہے۔
کراچی،14 اپریل 2025: پاکستان میں نفسیاتی تجزیاتی سوچ کو فروغ دینے کی ایک پرعزم کوشش…
سوئی سدرن گیس لمیٹڈ کمپنی نے رمضان المبارک میں گھریلو صارفین کیلیے گیس کی لوڈشیڈنگ…
کراچی سمیت سندھ بھر میں اس سال نویں اور دسویں جماعت کا شیڈول تبدیل کر…
فروری سال کا وہ مہینہ ہے جو محض 28 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے اور…
پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے چیمپئنز ٹرافی کے اگلے راؤنڈ تک جانے کا سفر مشکل ہوچکا…