مشہور ٹک ٹاکر مناہل ملک نے اپنی حالیہ جذباتی پوسٹس کے ذریعے مداحوں سے نہ صرف معافی طلب کی بلکہ اپنی دل کی گہرائیوں سے ایک پیغام بھی شیئر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ لوگوں کے بے رحم رویوں نے انہیں اندر سے توڑ کر رکھ دیا ہے اور وہ اب خود کو زندہ لاش محسوس کرتی ہیں۔
گزشتہ ہفتے مناہل ملک کی مبینہ نامناسب ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں، جس پر انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ پھیلنے والی ویڈیوز جعلی ہیں، ان کی ویڈیوز کو ایڈٹ کر کے پھیلایا گیا۔
مناہل کا کہنا ہے کہ ان کی مبینہ ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد وہ شدید تنقید کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کی جانب سے کئی بار وضاحت دینے کے باوجود کچھ لوگ انہیں تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔
مناہل ملک کی جانب سے وضاحت کے باوجود سوشل میڈیا صارفین اور بعض شوبز شخصیات نے دعویٰ کیا کہ ٹک ٹاکر نے اپنی ویڈیوز خود وائرل کیں۔
عالشہ عمر اپنی ہی ویڈیو دیکھ کر پریشان۔آخر وجہ کیا ہے؟
مناہل ملک نے اپنی اسٹوری میں لکھا کہ وہ آخری بار مداحوں سے مخاطب ہے، انہوں نے کبھی اس طرح بات نہیں کی۔ ٹک ٹاکر نے لکھا کہ وہ تھک چکی ہیں اور اندر سے مر چکی ہیں، لوگوں کے رویوں نے انہیں توڑ دیا ہے۔
“یہ زندگی بہت مختصر ہے۔ اپنے اپنوں کے ساتھ رہا کریں، غلطی کرنے والوں کو معاف کر دیں۔ دنیا بہت ظالم ہے، میں امید کرتی ہوں کہ آپ سب کو دوبارہ کبھی اپنا چہرہ نہ دکھاؤں۔”
مناہل ملک نے تعاون کرنے پر مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ساتھ ہی شکوہ بھی کیا کہ یہ دنیا جینے نہیں دیتی، دنیا بہت ظالم ہے اور امید کرتی ہوں کہ آپ لوگوں کو دوبارہ کبھی اپنا چہرہ نہ دکھاؤں۔
انہوں نے مداحوں کو تجویز دی کہ وہ نفرت پھیلانا بند کریں، اپنوں کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں اور غلطیاں کرنے پر معافیاں مانگیں اور معاف بھی کردیا کریں، اس زندگی کا کچھ پتا نہیں۔
مناہل ملک نے اپنی ایک اور پوسٹ میں مداحوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ زندگی بہت مختصر ہے، پتا نہیں کب کیا ہوجائے،پتہ نہیں کس کے پاس مہلت ہو یا نہیں۔بس اللہ پاک پر یقین رکھو اللہ حافظ ۔
ان کا یہ جذباتی پیغام نہ صرف ان کی تکلیف کو بیان کرتا ہے بلکہ معاشرے کی بے رحم حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…
پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…
کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…
14 شعبہ جاتِ اطفال پر مشتمل 88 شواہد پر مبنی طبی رہنما اصولوں پر مشتمل…
پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…
پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…