ٹیچر کی مجرمانہ غفلت سے دوسری کلاس کی بچی کی آنکھ ضائع ہوگئی

کراچی کے مشہور اسکول ماما پارسی کی ایک ٹیچر کی غیر ذمہ دارانہ حرکت اور مجرمانہ غفلت سے دوسری کلاس کی بچی کی آنکھ ضائع ہوگئی ، پرنسپل نے ٹیچر کی غلطی ماننے سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ماما پارسی گرلز اسکول کے دوسری جماعت کی طالبہ عائرہ شیخ کو اس کی کلاس ٹیچر نے ہاتھ میں پکڑی کتاب دے ماری جو سیدھی عائرہ کی آنکھ میں لگی جس سے اس کی آنکھ کا ڈھیلا متاثر ہوگیا۔

Image Source: Facebook

اس ناخوشگوار واقعے پر بچی کی والدہ نے سوشل میڈیا پر طویل پوسٹ کی جس میں تمام حقائق لکھ دئیے ہیں۔ پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ یکم نومبر کو، میری بیٹی عائرہ شیخ، جو ماما پارسی اسکول، کراچی میں دوسری جماعت کی طالبہ ہے، اس کی انگلش کلاس ٹیچر اسماء خالق کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے آنکھ متاثر ہوگئی ہے۔

Image Source: Screengrab

متاثرہ طالب علم عائرہ کی والدہ نے بتایا کپ اس کی کلاس ٹیچر نے ہاتھ میں پکڑی کتاب دے ماری جو سیدھی عائرہ کی آنکھ میں لگی جس سے اس کی آنکھ کا ڈھیلا متاثر ہوگیا جب بچی کے والدین نے اسکول جاکر شکایت کی تو پرنسپل نے بجائے ایکشن لینے کے بچی پر ہی الزام عائد کرنا شروع کردیا، پرنسپل نے نہ صرف بچی پر الزام عائد کیا بلکہ اس کے ساتھ بیٹھ کر 3 گھنٹے تک بچی کا برین واش کیا کہ وہ اپنے والدین کو بتائے کہ آنکھ میں چوٹ ٹیچر کے مارنے سے نہیں بلکہ گرنے کی وجہ سے لگی ہے۔

بچی کے والدہ نے موقف اپنایا کہ انگلش ٹیچر اسماء خالق کی مجرمانہ غفلت کے باعث بچی نہ صرف جسمانی اذیت کا شکار ہوئی بلکہ اسے شدید ذہنی تکلیف بھی اٹھانا پڑی ہے، کتاب لگنے سے عائرہ کی آنکھ پر چوٹ آئی جس سے اسے ناقابل برداشت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پوسٹ میں متاثرہ بچی کی والدہ نے یہ بھی لکھا کہ جب ہم اسکول کی پرنسپل مس فرنگیز تمپال سے اس واقعے کی شکایت کرنے گئے تو انہوں نے ہچکچاتے ہوئے ہم سے معافی مانگی، تاہم، کوئی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

Image Source: Twitter

بچی کی والدہ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لوگوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ میری آپ تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ اس مسئلے میں آواز بلند کرنے کے لئے میرا ساتھ دیں، کیونکہ جب ہم اسکولوں کے ایسے رویے کے خلاف اجتماعی طور پر آواز اٹھائیں گے تو اسکول انتظامیہ مجبور ہوکر غیر ذمہ دار اور غفلت برتنے والے اساتذہ کے خلاف کارروائی کریں گے۔

خیال رہے کہ اساتذہ کا طالب علموں پر تشدد کوئی نئی بات نہیں ،آج ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے اساتذہ اسکولوں میں بچوں کو سزا دے کر پڑھانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اس سے قبل بھی ملک کے مختلف شہروں میں اس طرح کے واقعات پیش آچکے ہیں، گزشتہ دنوں چیچہ وطنی میں بچے پر جسمانی تشدد کے الزام میں ٹیچر کو معطل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق گورنمنٹ ہائی اسکول کے ٹیچر نے8 مارچ کو بچے پر تشدد کیا، تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے  پر کارروائی کی گئی۔ ترجمان ڈی پی او کے مطابق طالبعلم پر تشدد کرنے والے اسکول ٹیچر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago