پاکستانی نوجوان کوہ پیما شہروز کاشف کا ایک اور تاریخ ساز کارنامہ

بلند وبالا پہاڑوں کو سر کرنے والے نوجوان پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف نے ایک اور قابل فخر کارنامہ انجام دیدیا ہے، اس بار انہوں نے نیپال میں دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی “کنگ چنجنگا” جو کہ 8 ہزار 5 سو 86 میٹر اونچی ہے، کو سر کر کے قومی پرچم پر لہرا دیا ہے۔ اس طرح وہ دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی سر کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے ہیں۔

بیس سالہ کو ہ پیما شہروز کاشف تیسری بلند ترین چوٹی سر کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین پہلے کوہ پیما بن گئے ہیں۔ اس کارنامے پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی شہروز کاشف کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد دی ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر لکھا کہ ‘آپ نے ایک بار پھر ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ہے، ماشاءاللہ’۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ‘ان کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ براڈ بوائے کے مطابق، وہ اب دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما ہیں جنہوں نے دنیا کی تین بلند ترین چوٹیوں (ایورسٹ، کے ٹو ، کنگ چنجنگا) کو سر کیا ہے’۔سوشل میڈیا صارفین بھی شہروز کاشف کو ایک اور اعزاز اپنے نام کر لینے پر مبارکباد دے رہے ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز کاشف نے 11 سال کی عمر میں ایک چھوٹی سی چوٹی سر کرنے سے کوہ پیمائی کا سفر شروع کیا تھا اور پھر آہستہ آہستہ بلند پہاڑوں کو سر کیا۔ ان کے والد کے مطابق شہروز کو پہاڑوں پر جانے کا شوق اس وقت ہوا جب وہ ان کے ساتھ آفس ٹرپ پر گئے اور وہاں انہوں نے پہلی بار پہاڑ پر جانے کی خواہش کی جسے گائیڈ کے ساتھ بھیج کر پورا کیا تھا۔

I

تاہم کوہ پیمائی کے شوق کے بارے میں شہروز کاشف نے اپنے ایک ٹٰی وی انٹرویو میں بتایا تھا کہ جب انہوں نے پہلی چوٹی سر کی تو انہیں خیال آیا کہ وہ اونچی ترین جگہ پر پہنچ گئے ہیں مگر جلد ہی انہیں یہ احساس ہوا کہ اونچی ترین جگہ پر جانا ابھی باقی ہے۔ تاہم جب انہوں نے  “کے ٹو” چوٹی سر کی تو انہیں ایسا لگا کہ انہوں نے واقعی بڑا کام کر دکھایا ہے۔ انہوں نے بتایا تھاکہ ایک کرکٹر کی ٹریننگ اور ایک کوہ پیما کی ٹریننگ میں بہت فرق ہے ۔کبھی کبھار ایک کوہ پیما کو بغیر آرام کیے 26 گھنٹوں تک سفر کرنا پڑتا ہے۔

Image Source: File

خیال رہے کہ شہروز کاشف ، کے ٹو اور ماؤنٹ ایورسٹ کے علاوہ 17 برس کی عمر میں سطح سمندر سے 26 ہزار 400 فٹ کی بلندی پر واقع پاکستان کی چوتھی بلند ترین چوٹی براڈ پیک بھی سر کر چکے ہیں براڈ پیک بھی سر کر چکے ہیں۔ وہ براڈ پیک پر پاکستانی پرچم لہرانے والے سب سے کم عمر کوہِ پیما ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ انہیں ’براڈ بوائے‘ کے نام سے جانتے ہیں۔

اس سے قبل کے ٹو کو سر کرنے والے سب سے کم عمر کوہ پیما ہونے کا اعزاز محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کے پاس تھا، جنہوں نے 2019 میں 20 سال کی عمر میں کے ٹو کو سر کیا تھا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago