آٹھارہ ستمبر سے شروع ہونے والی شاہین شاہ آفریدی اور انشا آفریدی کی شاہانہ شادی کا اختتام اکیس ستمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ولیمہ کی تقریب پر ہوا۔
شادی کی شاہانہ تقریبات کے اختتام کے بعد شاہین آفریدی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا رخ کرتے ہوئے ٹوئٹر پر ایک پیغام شیئر کیا ہے جس کے ساتھ دو تصاویر بھی ہیں یہ پیغام انکے مینیجر نے شاہین کےاکا ونٹ سے کیا ہے۔
شاہد آفریدی کے ساتھ ان کی بارات کے دن کی تصویر ہے۔جبکہ دوسری تصویر میں شاہین کے ساتھ انشا آفریدی ہیں دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما ہوا ہے۔اس تصویر میں انشا آفریدی کا چہرہ نظر نہیں آرہاہے اور شاہین کے چہرے کا ایک رخسار نظر آرہا ہے۔
اپنےسسر شا ہد آفریدی اور لائف پارٹنر کے ساتھ تصاویر شئیر کرتے ہوئے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ
“بہت بہت شکریہ ان تمام لوگوں کا جنہوں نے دل کی گہرایئوں سے ہمیں پیار اور دعایئں دیں ہیں۔اب میری زندگی کا ایک نیا آغاز ہونے والا ہے،اور اس سفر کی شروعات میں اپنے خاص شخص کے ساتھ پیار اور ہنسی کے ساتھ کروں گا “
پوسٹ کے کچھ دیر بعد ہی عجیب و غریب دیکھنے کو ملا جو صارفین کی آنکھ سے چھپا نہ رہ سکا۔
کمنٹ سیکشن میں شاہین کے ہی اکاؤنٹ سے خود کو شادی کی مبارک باد کا پیغام سامنے آیا جس نے انٹرنیٹ پر میم کی برسات کر ڈالی۔
شاہین شاہ آفریدی نے اپنی ہی پوسٹ پر دو لال دل والےایموجی کیساتھ کمنٹ کیا کہ ’مبارک ہو بھائ‘
صارفین نےمزاحیہ انداز اپناتے ہوئے کہا ہےکہ ’شاہین آفریدی کا مینیجر اکاؤنٹ تبدیل کرنا بھول گیا’۔
آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ تبصرہ سوشل میڈیا سائٹ سے ڈیلیٹ کردیا گیا ہے تاہم ڈیلٹ سے پہلے لئے گئے اسکرین شارٹس ہر جگہ گھوم رہے ہیں۔
اس ہی پوسٹ کے نیچے مشہور ٹک ٹاکر حریم شاہ نے کمنٹ کیا ہے اور شاہین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ “شادی مبارک ہو, لیکن فل’حال انشاکو اپنے مائنڈ سے نکال کر سارا فوکس ورلڈ کپ پر رکھو۔
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…
پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…
کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…
14 شعبہ جاتِ اطفال پر مشتمل 88 شواہد پر مبنی طبی رہنما اصولوں پر مشتمل…
پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…
پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…