ظلم کی انتہاء معاشرے نے ماں کو یتیم بیٹی سے جدا کردیا

پاکستان جیسے ملک میں جہاں غربت سے متاثرہ لوگوں کی بڑی تعداد ہے۔ اس تناظر میں اگر سر پر چھت نہ ہو تو اس سے بڑا ظلم کیا ہوسکتا ہے البتہ ایسے میں ملک میں قائم شیلٹر ہوم یعنی عارضی پناہ گاہیں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ دوسری جانب اگر جن کا اس دنیا میں کوئی سہارا نہ ہو انکے لئے یہ پناہ گہیں کسی نعمت سے کم نہیں ہوتیں ہیں۔ البتہ ایسی ہی ایک غم کی داستان جس میں باپ کے انتقال کے بعد مجبور ماں نے اپنی چھ سالہ بیٹی کو شیلٹر ہوم میں چھوڑ دیا۔

کہنے کو دنیا میں انسان آج جدیدیت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں آج بھی کچھ پست اور سطحی سوچ رکھنے والے افراد زندہ ہیں جن کے لئے خون کے رشتوں سے زیادہ معاشرے میں اپنا وقار بلند رکھنا زیادہ اہم سمجھتے ہے۔

پاکستان کے مشہور سماجی کارکن سارم برنی نے ایک ویڈیو جاری کہ جس میں انہوں نے انتہائی دلخراش واقعہ بیان کیا ان کا کہنا تھا کہ بحثیت قوم آج ہمارے لئے آج افسوس کا مقام ہے، جہاں ایک انتہائی مجبور ماں کو اپنی چھے سالہ لختِ جگر کو محض معاشرتی دباؤ کی وجہ سے شیلٹر ہوم میں چھوڑ کر جانا پڑا۔ اس معاشرے نے آج اپنے خود ساختہ بنائی گئیں روایات کی بنیاد پر ایک ماں کو اپنی معصوم بیٹی سے جدا کروا دیا۔

.اس ویڈیو کو دیکھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

https://www.facebook.com/SarimBurneyOfficial/videos/711975816283348/

صارم برنی نے اپنے ویڈیو پیغام میں مزید بتایا کہ اس ماں کے پاس اپنی بیٹی کو یہاں چھوڑنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ بچی کے باپ کے انتقال کے بعد وہ اپنے ساتھ اس کو نانا کے گھر لیکر گئی البتہ نانا نے اپنی نواسی کو گھر میں رکھنے سے معذرت کرلی محض اس لئے کیونکہ اس لئے نے شادی اپنی مرضی سے کی تھی جس میں میرے والد کی رضامندی شامل نہیں تھی۔

ساتھ ہی صارم برنی نے نم آنکھوں سے مزید کہا کہ انہوں نے اس بچی کی والدہ کو تمام اخراجات آٹھانے کا وعدہ کیا اور کہا اس بچی ماں سے الگ کرنا ایک غیر اخلاقی عمل ہوگا البتہ ماں نے بیان کیا کہ اس کے گھر والے اس کو الگ نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں سوال کیا ہماری قوم پر ایسے وبائی امراض کیوں نہیں آئیں گے جب اس طرح کے معاشرے میں ظلم برپا کئے جائیں گے۔ ہمارے معاشرے سے گویا احساس ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس احساس کو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس شیلٹر ہوم میں ایسی کئی کہانیاں ہیں البتہ یہ ایک بہت بڑی دردناک کہانی ہے۔ جس کی اہمیت اوجاگر کرنا بہت بڑی اور اہم ذمہ داری ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

محکمہ صحت سندھ، لمز اور آغا خان یونیورسٹی کا بنیادی صحت کے نظام تک ماں اور بچوں کی صحت کے لیے قومی مصنوعی ذہانت مرکز لانے کے تاریخی معاہدے پر دستخط

عائشہ سلمان، گیٹس فاؤنڈیشن، پروگرام آفیسر؛ ڈاکٹر زہرا ہڈبھائے، آغا خان یونیورسٹی، ایسوسی ایٹ پروفیسر؛…

2 weeks ago

Coke Studio Nu.WAVکا نیا گانا ’رنگین‘ ریلیز

لاہور (نمائندہ خصوصی) Coke Studio Nu.WAV نے اپنے موسیقی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے…

2 weeks ago

2026 SIMPACT میں طبی تعلیم کے لیے سیمولیشن میں مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت حاصل

: آغا خان یونیورسٹی (AKU) کے سینٹر فار انوویشن اِن میڈیکل ایجوکیشن (CIME)، کراچی نے…

3 weeks ago

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کا پہلا گانا ’دل‘ ریلیز، افیوسک (Afusic)اور زوہا وسیم کی آوازوں کا خوبصورت امتزاج

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے سفر کا آغاز پہلے گانے ’دل‘ کی ریلیز سے کردیا،…

1 month ago

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ اور سٹی پاکستان نے سپلائر فنانسنگ اور سپلائی چین کی مضبوطی کے لیے شراکت داری کی

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) نے اپنے سپلائرز کے لیے سٹی پاکستان کے Citi®…

1 month ago