ایشیا کپ کے دوران ٹیموں کی شرٹ پر میزبان ملک پاکستان کا نام نہ لکھنے کی وجہ سامنے آ گئی

ایشیا کپ کو لے کر شائقین کرکٹ میں کافی مایوسی نظر آرہی ہے جس کی ایک وجہ ہائبرڈ ماڈل کے تحت ایونٹ کے زیادہ تر میچز سری لنکا میں ہونا ہے۔ دوسری بڑی وجہ ایشیا کپ میں شامل ٹیموں کی جرسی پر میزبان ملک ‘پاکستان’ کا نام نہ ہونا ہے۔

Reason Pakistani Logo Missing

ذرائع کے مطابق ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) نے گزشتہ ایشیا کپ کے دوران میزبان ملک کا نام نہ لکھنے کا فیصلہ کیا تھا، اے سی سی اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ میزبان ملک کے ساتھ سال بھی نہیں لکھا جائے گا،شرٹس پر سری لنکا 2022 اور یو اے ای 2022 لکھے جانے کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا، شرٹس مختلف لوگو کے ساتھ موجود تھیں اور ایک شرٹ پر صرف سال لکھا گیا تھا۔

ایشین کرکٹ کونسل کے ذرائع نے کہا کہ اے سی سی کا مقصد شرٹس میں تسلسل لانا تھا تاکہ لوگو میں یکسانیت ہو اور زیادہ لوگوں تک پہنچے،گزشتہ سال شرٹس پرنٹ ہونے کی وجہ سے میزبان ملک کا نام نظر آیا، گزشتہ برس کے فیصلے کی روشنی میں صرف ایشیا کپ کے لوگو کا استعمال ہو رہا ہے، فیصلے کی وجہ سے سال اور میزبان ملک کا نام شرٹ کے لوگو میں شامل نہیں کیا گیا۔

ہائبرڈ ماڈل کے تحت کھیلے جانے والے ایشیا کپ کا آغاز کل سے ملتان میں ہوچکا ہے۔ ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں عالمی نمبر ون ٹیم پاکستان اور ایشیا کپ میں اپنا ڈیبیو کرنے والی ٹیم نیپال مد مقابل تھیں۔

ایشیاکپ؛ ٹیمز کی جرسی پر میزبان ’’پاکستان‘‘ کا نام نہ ہونے پر فینز آگ بگولہ

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر (ایکس) پر کئی صارفین نے نشاندہی کروائی تھی کہ گزشتہ برس ایشیاکپ 2022 میں جب ٹیمز نے آفیشل جرسی پہنی تھی تو سری لنکا کی میزبانی کا لوگو موجود تھا تاہم پاکستان کی میزبانی کا لوگو نہ ہی گرین شرٹس کی جرسی پر موجود ہے نہ دیگر ایشیائی ٹیمز کی۔

دوسری جانب رواں ایشیاکپ کے ایڈیشن کا میزبان پاکستان ہے لیکن ٹیمز کی جرسی پر میزبان ملک کا نام درج نہ ہونے پر پاکستان فینز مایوس کا اظہار کررہے ہیں جبکہ مختلف دلائل بھی پیش کررہے ہیں۔

ٹی20 فارمیٹ پر کھیلا گیا پچھلا ٹورنامنٹ متحدہ عرب امارات نے ہوسٹ کیا تھا تاہم اسکا کا اصلی میزبان سری لنکا تھا جس کا نام ٹیمز کی جرسی پر موجود تھا۔ واضح رہے کہ ایشیا کپ کے دوران پاکستان کا نام میزبان کی حیثیت سے شرٹ پر نہ ہونے کا معاملہ سوشل میڈیا صارفین نے خوب اٹھایا اور اے سی سی پر تنقید بھی کی گئی تاحال ایشین کرکٹ کونسل کی جانب سے اس پر کوئی واضح جواب نہیں آیا ۔

صارفین کا کہنا ہے کہ ایشیاکپ کی میزبانی پاکستان کے پاس آتے ہی ایشین کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ کی جانب سے میزبان ملک کا نام، سال نہ لکھنے کا مقصد بہت صاف ہے کہ وہ بھارت کی جرسی پر پاکستان کا نام نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔

جبکہ گزشتہ دنوں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بھارت میں شیڈول ورلڈکپ کیلئے آفیشل کٹ کا اعلان کیا تو اُس پر بھارت کا نام قابلِ ذکر طور پر موجود تھا۔

آپ کو بتاتے ہیں کہ ایشیاکپ میں پاک بھارت ٹیمیں 2 ستمبر کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئیں گی۔

Annie Shirazi

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago