Categories: صحت

ماہ رمضان میں صحت کا خیال کیسے رکھیں

ماہ ِرمضان میں اگر افطاری کے دسترخوان پر پکوڑے اور سموسے نہ ہوں تو لگتا ہے جیسے افطاری اُدھوری ہے مگر ہماری صحت کے لیے یہ تلی ہوئی چیزیں کتنی نقصان دہ ہیں اس کا ہمیں اندازہ نہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم سحر وافطار میں صحت بخش خوراک کا انتخاب کریں ، جس سے ہماری قوت مدافعت متاثر نہ ہو اور عبادت و ریاضت میں بھی خلل نہ آئے۔

یہاں ہم آپ کو چند ایسی چیزیں بتائیں گے جن پر عمل کر کے اس ماہ مبارک میں آپ کی صحت متاثر نہیں ہوگی اور آپ خود کو چکا وچوبند محسوس کریںنگے۔

پانی کا استعمال

روزے کی حالت میں پیاس کا احساس سب سے زیادہ ہوتا ہے اور اکثر اوقات جسم میں پانی کی کمی بھی ہوجاتی ہے۔ چونکہ آجکل گرمی بہت زیادہ ہے اس لئے افطار کے بعد وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ آئے۔ سحری میں بھی صحت بخش مشروبات پیئں تاکہ روزے کی حالت میں جسم کی توانائی متاثر نہ ہو۔

تلی ہوئی چیزوں سے اجتناب کریں

افطار میں سموسے اور پکوڑے کھانا کولیسٹرول میں اضافے اور صحت کی خرابی کا باعث بنتے ہیں، اسی لیے رمضان میں ان کے زائد استعمال سے اجتناب کرنا چاہیئے کیونکہ تمام دن کے بعد معدے کو متوازن اور صحت مند غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ غذا میں چکنائی کی زیادتی خطرناک ثابت ہوتی ہے جب کہ روزے کی حالت میں اس چکنائی سے معدے میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے جس سے نیند بھی متاثر ہوتی ہے۔

کھجور اور پھلوں کا استعمال

طبی ماہرین کے مطابق کھجور کے ساتھ پھلوں سے افطار کرنا صحت کے لئے مفید ہے کیونکہ روزے دار کو زیادہ سے زیادہ متوازن غذا کا استعمال کرنا چاہیئے۔افطار میں ایسے پھل سبزیاں کھانا چاہیئں جن میں وٹامن سی وافر مقدار میں موجود ہو ، یہ وٹامن سی قوت مدافعت کو بڑھاتاہے۔

روٹی اور گوشت

سحری کےوقت گھی یا آئل میں تر پراٹھے  کھانے سے بہتر ہے کہ چکی کے آٹے کی روٹی کھائی جائے اس سے جلد بھوک کا احساس بھی نہیں ہوتا اور وزن بڑھنے کا ڈر بھی نہیں رہتا اس کے ساتھ ساتھ بھنا ہوا گائے یا بکرے کے گوشت یا مرغی کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔

اعتدال میں کھائیں

Image Source: Bol News

نظام ہضم کو درست رکھنے کے لئے اعتدال میں رہتے ہوئے سحر و افطار  میں ایسی خوراک کا استعمال کرنا چاہیے جو نظام ہضم کو متاثر نہ کرے۔ سحری کرنے کے بعد آخری وقت تک پانی پیتے رہنا مناسب نہیں اور افطار کے فوراً بعد صرف پانی سے پیٹ بھرنا بھی ٹھیک نہیں، ایسی صورت میں قے (الٹی) ہوسکتی ہے، معدے اور دل پر دباؤ پڑتا ہے، جس سے نظام ہضم متاثر ہوجاتا ہے۔لہذا کوشش کریں کہ سحرو افطار میں ہر چیز اعتدال میں کھائیں تاکہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں بیماری سے محفوظ رہتے ہوئے عبادتوں کی ادائیگی بھرپور طریقے سے کرسکیں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago