ملک میں خودکشیوں کا رجحان بڑھتا جارہا ہے ، ہر روز کوئی نہ کوئی شخص اپنے ہاتھوں زندگی کا خاتمہ کررہا ہے جو کہ افسوسناک بات ہے۔ کہیں خودکشی کی وجہ گھریلو ناچاقیاں بنتی ہیں تو کہیں معاشی مسائل ۔۔۔حالیہ دنوں میں رحیم یار خان کے تھانہ سٹی اے ڈویژن میں تعینات مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی ایک لیڈی سب انسپکٹر میری روز نے گھریلو ناچاقی پر موت کو گلے لگالیا۔
تفصیلات کے مطابق میری روز نے مبینہ طور پر شوہر سے جھگڑے پر دلبرداشتہ ہوکر گندم میں رکھنے والی زہریلی گولیاں نگل لی تھیں جس سے اس کی حالت غیر ہوگئی جسے شیخ زاید اسپتال ایمرجنسی وارڈ منتقل کیا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے اس کا معدہ واش کرکے زندگی بچانے کی بھرپور کوشش کی لیکن لیڈی سب انسپکٹر جانبرنہ ہوسکیں۔ ذرائع کے مطابق لیڈی سب انسپکٹر کی اپنے خاوند پولیس انسپکٹر سے گھریلو ناچاقی چل رہی تھی۔
واضح رہے کہ خاتون سب انسپکٹر کا شوہر دلاور بھی اسپیشل برانچ لاہور میں سب انسپکٹر ہے، واقعے سے ایک روز قبل دونوں میاں بیوی کے درمیان موبائل فون پر مبینہ طورپر جھگڑا ہوا تھا جس سے دلبرداشتہ ہوکر خاتون سب انسپکٹر میری روز نے گندم میں رکھنے والی زہریلی گولیاں کھالیں جسے حالت نازک ہونے پر طبی امداد کیلئے شیخ زید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں خاتون سب انسپکٹر میری روز جانبرنہ ہوپائی اور دم توڑگئی۔
دلاور ایک روز قبل ہی رحیم یارخان سے ڈیوٹی پر لاہور گیا تھا جس کے بعد سب انسپکٹر میری روز ڈیوٹی پر تھانے چلی گئی اور وہاں سے پولیس لائن بھی گئی۔ اس دوران اس نے اپنے ڈرائیور سے بھی کہا تھا کہ اگر اسے اس سے کوئی شکایت ہے تو وہ اسے معاف کردے۔جس کے بعد میری روز نے گھر آکر مبینہ طور پر زہریلی گولیاں نگل لیں۔ مرنے سے پہلے خاتون سب انسپکٹر نے اپنے بیڈ روم کے آئینے پر سرخ لپ اسٹک سے ایک تحریر بھی لکھی جس میں مرحومہ نے اپنی والدہ کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے معافی مانگی ہے۔ مرحومہ نے اپنی والدہ کے نام پیغام میں لکھا کہ ماں معذرت ، دعا کرنا میری جان آسانی سے نکل جائے، میری بیٹیوں کی شادی کسی انسان سے کرنا جو ذمہ داری اٹھا سکے، میری بیٹیاں میری قبر پہ ضرور آئیں گی۔
مزید پڑھیں: شوہر کی دوسری شادی ، بیوی کا دالخراش انتقام
یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ہمارے معاشرے میں خودکشی کی وجوہات گھریلو جھگڑے، جہالت اور ذہنی تناؤ ہے جبکہ زیادہ تر واقعات ذاتی و گھریلو مسائل کہ وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ خودکشی کرنے والوں میں ان پڑھ افراد کے ساتھ پڑھے لکھے نوجوانوں کی بھی اکثریت شامل ہیں۔
یاد رہے کہ ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ گزشتہ دنوں کراچی میں پیش آیا،جس میں کورٹ میرج کرنے کے صرف دو دن بعد نوجوان 5 منزلہ عمارت کی چھت سے گرکر ہلاک ہوگیا۔ نوجوان کے والد کے مطابق ان کے بیٹے کو پولیس نے عمارت سے دھکا دیا، والد کا کہنا تھا کہ بیٹے نے پسند کی شادی کی جس پر اس کی بیوی آسیہ کے گھر والوں نے مقدمہ درج کروایا تھا جبکہ عدالت میں بھی لڑکی نے نبیل کے حق میں بیان ریکارڈ کرایا تھا۔
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…