Categories: پاکستانصحت

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ مل کر ایک ہفتے سے زائد عرصے تک قومی عجائب گھر پاکستان میں اجلاس منعقد کیے جن میں عجائب گھر کی عمارت، اس کے ذخائر اور عوامی گیلریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ یہ سرگرمی وفاقی وزارتِ ثقافت و ورثہ کے ساتھ قائم باضابطہ شراکت داری کا حصہ تھی جس کا مقصد قومی عجائب گھر کی اپ گریڈیشن اور بحالی ہے۔ اس عمل میں سٹیزنز آرکائیو آف پاکستان (CAP) نے بھی شرکت کی۔

وفد نے کراچی کے اہم ثقافتی اداروں کا مطالعاتی دورہ بھی کیا جن میں موہٹہ پیلس، اسٹیٹ بینک میوزیم اور ٹی ڈی ایف میگنیفائی سائنس سینٹر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آغا خان یونیورسٹی نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ایک مشاورتی نشست کا اہتمام کیاجس میں ماہرینِ تعمیرات، عجائب گھروں کے ماہرین، مؤرخین اور ثقافتی شعبے سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی کے ثقافتی منظرنامے کا جائزہ لینے کے ساتھ عجائب گھروں میں عوامی دلچسپی بڑھانے، ثقافتی ورثے کے تحفظ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور عوام کی رسائی میں اضافے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

مشاورتی اجلاس میں محترمہ مروی مظہر، ڈاکٹر اسما ابراہیم اور محترمہ نسرین عسکری سمیت دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں۔

قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کے ڈائریکٹر جنرل امان اللہ خان نے کہا”اداروں کے درمیان باہمی تعاون پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کیلئے انتہائی اہم ہے۔ ہمارے عجائب گھروں کو مزید مضبوط بنانے سے یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ ہماری تاریخ آنے والی نسلوں کیلئے قابلِ رسائی اور بامعنی رہے۔“

آغا خان یونیورسٹی کی وائس پرووسٹ انجم ہالائی نے کہا” آغا خان یونیورسٹی میں ہم ایسے مکالمے اور تعاون کے فروغ کیلئے پُرعزم ہیں جو ثقافتی آگاہی اور ورثے کے تحفظ کو مضبوط بنائیں۔ یہ اقدام اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ ایسے جامع اور قابلِ رسائی ثقافتی مقامات قائم کیے جائیں جو سیکھنے، غور و فکر اور کمیونٹی کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کریں۔“

حکومتِ پاکستان اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے اداروں کے درمیان یہ شراکت داری پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کیلئے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ قومی عجائب گھر کے اس تجزیاتی جائزے اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہونے والی مشاورت سے عجائب گھر کی بحالی کیلئے درکار اقدامات کی نوعیت اور دائرہ کار کو واضح کرنے میں مدد ملے گی، جس کی بنیاد پر متعلقہ سرکاری حکام کیلئے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔

zeeshan

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

5 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago