پاکستانی ڈاکٹر کی کتاب آپٹکس کی دنیا میں سنگ میل قرار

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
زرا نم ہو تو یہ مٹی بہت، زرخیز ہے ساقی

اقبال کا یہ شعر اس قوم اور خطے کی لوگوں کی صلاحیتوں کا اعتراف تھا، اقبال کو اندازہ تھا کہ قوم صلاحیتوں سے مالامال ہے یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں پاکستان میں کس طرح وقتاً فوقتاً برے برے حالات میں ایسے باصلاحیت لوگ نکل کر سامنے آتے ہیں جو ملک و قوم کا نام پوری دنیا میں روشن کرتے ہیں اور اپنا لوہا منواتے ہیں، فیلڈ کوئی بھی ہو، پھر پاکستانیوں کا اس میں کوئی جواب نہیں ہے، انہی باصلاحیت لوگوں میں اب ایک نام ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ کا شامل ہوا ہے، جنہوں نے اپنی زبردست تخلیق سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کردیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان کے خوبصورت اور پُرکشش مقام چترال کے علاقے یارخون سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ نے اپنی کتاب کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کردیا ہے۔

Image Source: Facebook

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ کی کتاب کو “بک اتھارٹی” کی جانب سے “بیسٹ اوپتھلمولوجی بکز آف آل ٹائمز” کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔ عالمی ماہرین کی جانب سے متعلقہ کتاب کو آپٹکس (یعنی آنکھوں) علوم کے حوالے دنیا میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہاں یہ بات انتہائی قابل فکر اور قابل ستائش ہے کہ چترال سے تعلق رکھنے والی سرجن برائے امراض آنکھ ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ واحد پاکستانی ڈاکٹر ہیں، جنہوں نے “بک اتھارٹی” کی فہرست میں جگہ بنائی یے۔

پاکستانی ڈاکٹر زبیدہ سرنگ کی کتاب، “آپٹکس میڈ ایزی: دی لاسٹ ریویو آف کلینکل آپٹکس” جہاں “بک اتھارٹی” کی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہے وہیں یہ کتاب بین الاقوامی آن لائن شاپنگ سروس ایمیزون کی تین بہترین فروخت ہونے والی کتابوں میں سے بھی ایک قرار دی گئی ہے۔

Image Source: techjuice.pk

ڈاکٹر زبیدہ سیرنگ ان دنوں آئرلینڈ میں موجود ہیں جہاں وہ سرجیکل آپتھلمولوجی میں اپنی اسپیشلائزیشن مکمل کررہی ہیں، اس سے قبل انہوں نے کراچی کی مشہور آغا خان یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کی تھی۔ جبکہ ان کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد دو سال تک اپنے آبائی علاقے یارخون میں اپنی خدمات سرانجام دی تھیں۔ بعدازاں اعلی کے لئے پھر وہ بیرون چلی گئی تھیں۔

یاد رہے حال ہی میں لاہور سے تعلق رکھنے والی اے سی سی اے کی طالبہ زارا نعیم کو دسمبر 2020 میں منعقدہ فنانشل رپورٹنگ کے امتحان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے پر عالمی انعام یافتہ قرار دیا گیا ہے۔ہونہار طالبہ نے اس منعقدہ امتحانات میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے اور عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ اکاؤنٹنسی کے شعبے میں اے سی سی اے کی کوالیفکیشن کو عالمی معیار کا تصور کیا جاتا ہے اور جبکہ اس نتائج کو دنیا کے 179ممالک میں تسلیم کیا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ایک اور طالب علم نے بھی بین الاقوامی مقابلہ جیت کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے سات سالہ ننھے طالب علم زید صدیقی نے بین الاقوامی انگریزی زبان کا مقابلہ جیت کر دنیا کے چودہ ممالک کے طلباء کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جوکہ پوری قوم کے انتہائی فخر کی بات ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago