پاکستانی نوجوان آسٹریلیا میں نوکری کے پہلے دن ہی حادثے میں جاں بحق

آسٹریلیا کے شہر سڈنی سے ایک افسوسناک خبر سامنے آئی ہے، جہاں 25 سالہ پاکستانی شہری ایاز یونس ایک افسوسناک حادثے کے نیتجے میں اپنے کام کے پہلے ہی روز اپنی جان کی بازی ہر بیٹھا۔

اطلاعات کے مطابق پاکستانی شہری ایاز یونس کا بطور کنٹریکٹر اپنی نوکری پر پہلا ہی روز تھا، لیکن سڈنی کے شمال مضافاتی علاقے گلنوری میں ایک حادثہ پیش آیا جہاں ان کی گاڑی ٹویوٹا کیمری سیلابی پانی میں پھنس گئی، اس دوران انہوں نے ایمرجنسی سروسز پر کئی بار مدد کے لئے رابطہ کیا، لیکن افسوس کے ساتھ وہ گاڑی سے باہر نہ نکل سکے اور ان کی وہیں موت واقعے ہوگئی۔

Image Source: 7 News

تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ بدھ کی صبح پیش آیا، 25 سالہ ایاز یونس کا تعلق کراچی کے علاقے ملیر کینٹ سے تھا، جوکہ سافٹ انجینرنگ کا طالب علم تھا۔ اس واقعے کی اب دیگر تفصیلات بھی منظر عام پر اچکی ہیں، پولیس کے مطابق صبح 6:30 کے قریب ایمرجنسی سروسز طلب کی کیونکہ وہ سڈنی کے مضافاتی علاقے گلنوری کے کٹائی رج روڈ پر ایک سیلابی پانی کے دلدل میں پھنس گیا تھا۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ایاز یونس تقریباً 40 منٹ تک ایمرجنسی ہیلپ لائن ٹریپل زیرو سے رابطے میں رہا لیکن اس کے بعد پھر اس کا رابطہ اچانک منقطع ہوا ہے، جس کے بعد پولیس نے متعلقہ علاقے تلاش شروع کی۔ پولیس کو تقریباً 1 بجے متعلقہ علاقے سے گاڑی ملی، جس میں ایاز یونس کی لاش بھی موجود تھی ۔

اس موقع پر تفتیشی افیسر کا بدھ کے روز کہنا تھا کہ اگر ایاز نونس کی جانب سے ہم سے رابطہ نہیں کیا جاتا تو شاید پھر وہ کبھی نہیں مل پاتا۔ جبکہ موت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہم فلحال صرف قیاس ہی کر سکتے ہیں کہ ایاز یونس کو علاقے کے بارے میں بالکل معلوم نہیں تھا، جتنا ایک مقامی افراد کو معلوم ہوتا ہے۔

Image Source: Facebook

مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے پولیس نے مزید بتایا کہ شاید ایاز یونس نے پانی نہیں دیکھا ہوگا، اگرچے علاقے کا جائزہ لیا جائے تو سڑک کے پار لگے پھاٹک مکمل طور پر ڈوبے ہوئے تھے۔ افسوس لیکن ہم ہمیشہ اس چیز کی تاکید کرتے ہیں کہ نمی والے روڈوں پر جاڑیاں چلانے سے اجتناب کریں کیونکہ وہاں خطرات ہوتے ہیں۔

اس واقعے میں جہاں پولیس کا ماننا ہے کہ مرنے والا شخص اس علاقے اور روڈوں کے حوالے سے بالکل ناواقف تھا، جس کے باعث یہ حادثہ پیش آیا ہے، جبکہ واقعے حوالے سے جاری تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گاڑی جب پانی کے اندر گئی تو الیکٹرونکس سسٹم گاڑی کا فیل ہوا اور گاڑی کے شیشے اور دروازے کھولنے سے قاصر رہے، اس دوران جاں بحق ہونے والے نوجوان ایاز یونس نے اپنی گاڑی کے شیشے توڑنے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہا۔

Image Source: 7 News

اس کے علاوہ کار کا نیا پن ہونے کا بھی عنصر تحقیقات کا ایک اہم اور بڑا حصہ بن گیا ہے، یہاں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا کار کا نیا پن ہونا، گاڑی سے باہر نہ نکلنے کا باعث بنا دیا تھا۔

واقعے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کے عہدیدار فرحت جعفری کا کہنا تھا کہ ان کی جاں بحق ہونے والے شخص کے والد سے بات چیت ہوئی ہے، ایاز یونس کے ورثاء میں دو بڑے بھائی ہیں اور ایک چھوٹی بہن بھی شامل ہے۔

ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کے عہدیدار فرحت جعفری کا مزید کہنا تھا کہا اہلخانہ نے درخواست کی ہے کہ ان کے بیٹے کے جنازے کو کراچی بھیجا جائے، اس حوالے سے انہوں کاؤنسل جنرل سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں جبکہ پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا اس معاملے کی ہر ممکن معاونت کے لئے تیار ہے۔

واضح رہے اس سے قبل امریکہ میں ایک پاکستانی جوڑا سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا تھا، ان کی شادی ہوئے محض اس وقت 15 دن ہی گزرے تھے۔

Story Courtesy: 7 News

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago