ریحام خان اور منیب بٹ ٹوئیٹر پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے کیوں آئے؟

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہونے کے بعد معروف شوبز شخصیات ان کی حمایت میں میدان میں اتر آئی ہیں اور ان کے حق میں بیانات دے رہی ہیں۔ مگر عمران خان کی سابق اہلیہ اور صحافی ریحام خان اس حمایت پر ناخوش ہیں اور انہوں نے شوبز فنکاروں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں ریحام خان نے کہا کہ  یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ وہ اداکار جن کی ہم آن اسکرین ٹیلنٹ کی وجہ سے عزت کرتے ہیں وہ بےشرمی کے ساتھ اس فاشسٹ اقتدار کی آواز بنے ہوئے ہیں جو بس اپنے جانے کے راستے پر ہے۔ ریحام خان نے مزید لکھا کہ ان تمام اداکاروں نے کپتان سے اپنے فلمی پروجیکٹس کے لیے بھاری سرمایہ کاری حاصل کی۔

تاہم ،اداکار منیب بٹ نے ریحام خان کے ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنی فلم ‘جانان’ کے لیے بھاری سرمایہ کاری حاصل کی۔ منیب بٹ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ فلم کے سیٹ کا فرنیچر تک انہوں نے عمران خان کا نام استعمال کر کے لوگوں سے مفت میں لیا تھا۔ اداکار نے ریحام خان سے کہا کہ بڑے پن کا مظاہرہ کریں اور ہم پر تنقید بھی نہ کریں۔

اس سے قبل صبا قمر، ہمایوں سعید، روحیل حیات، شان شاہد، اور ثمینہ پیرزادہ سمیت کئی دیگر نے عمران خان کی حمایت میں ٹوئٹس کی تھیں۔ اداکارہ صبا قمر نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ یہ ایک شخص کی بات نہیں، یہ پاکستان کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے وزیراعظم عمران خان کو کامیابی سے ہمکنار کرے آمین۔

جبکہ اداکار و ہدایتکار ہمایوں سعید اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ اداکار ہمایوں سعید نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ میں عمران خان کا اس وقت سے مداح ہوں جب وہ  کھلاڑی تھے اور آج بھی ان کی قیادت کا مداح ہوں۔ میری خواہش اور دعا ہے کہ وہ اپنی مدت پوری کریں ،اللہ انہیں سلامت رکھے۔

پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف اداکار شان شاہد تو وزیراعظم عمران خان کے  پرزور حامی  ہیں اور وقتاً فوقتاً سوشل میڈیا پر عمران خان کے حق میں رائے عامہ ہموار کرتے نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 27 مارچ کے جلسے کا اعلان کیے جانے کے بعد سے ہی اداکار شان وزیراعظم کے حق میں  متعدد ٹوئٹ کیے۔ پی ٹی آئی کے جلسے کے بعد اپنے ٹوئٹ میں شان شاہد نے لکھا کہ پاکستانیوں نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے کہ  وہ صرف ایک لیڈر چاہتے ہیں جو انہیں پاکستان کے روشن مستقبل کی طرف لے جائے۔ انہوں نے عمران خان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ آپ اپنی پارلیمنٹ رکھ سکتے ہیں لیکن آپ کبھی ہم سے ہمارا لیڈر نہیں چھین سکتے۔

خیال رہے کہ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پہلی بار وفاق میں قائم ہوئی اور 22 سالہ جدوجہد کے بعد عمران خان پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم بنے۔لیکن تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے فوری بعد ہی اپوزیشن نے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے کر مسترد کردیا اور اس کیخلاف احتجاج شروع کیا۔ عمران خان کی حکومت کو اب تقریباً 4 سال ہونے کو ہیں، اس دوران اپوزیشن نے مختلف حربے اپنائے جن سے عمران خان کی حکومت کو ختم کیا جاسکے لیکن انہیں کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا پر فحش اور بیہودہ مواد طلاق و جنسی جرائم کا ذمہ دار ہے، وزیراعظم

بہرحال اب صورتحال یہ ہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کو عہدے سے ہٹانے کا آئینی راستہ اپناتے ہوئے ان کیخلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس وزیراعظم کیخلاف ووٹ دینے والے اراکین کی تعداد حکومت کے حامیوں سے زیادہ ہے اور اس بار وزیراعظم عمران خان نہیں بچ سکیں گے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago