کیا آپ صبح جاگنے کے لیے موبائل فون کے الارم کا سہارا لیتے ہیں؟
اگر ہاں تو یہ عادت جان لیوا امراض کا شکار بنا سکتی ہے۔
ورجینیا یونیورسٹی کے اسکول آف نرسنگ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ صبح کے وقت الارم بجنے سے جھنجھلاہٹ ہی نہیں ہوتی بلکہ اس سے بلڈ پریشر بھی بڑھتا ہے اور دل کی شریانوں کے امراض بشمول فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔
یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جو افراد صبح اٹھنے کے لیے الارم کلاک استعمال کرتے ہیں، وہ قدرتی طور پر جاگنے والوں کے مقابلے میں زیادہ تھکاوٹ کے شکار ہوتے ہیں۔
اس تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ صبح زبردستی اٹھنے جیسے فون الارم کی مدد لینے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس تحقیق میں 450 ایسے افراد کو شامل کیا گیا تھا جو کل وقتی ملازمت کرتے تھے اور ان کی نیند کے دورانیے سمیت دل کی دھڑکن کی رفتار کا ڈیٹا وئیر ایبل ڈیوائسز کے ذریعے اکٹھا کیا گیا تھا۔
پہلی رات انہیں الارم کے بغیر قدرتی طور پر اٹھنے کی ہدایت کی گئی جبکہ دوسری رات انہیں 5 گھنٹے کی نیند کے بعد اٹھنے کے لیے الارم لگانے کا کہا گیا۔
کیا چھٹی کے دن دیر سے اٹھنے کا کوئی فائدہ ہے؟
نتائج سے معلوم ہوا کہ قدرتی طور پر اٹھنے کے مقابلے میں الارم سے اٹھنے پر مجبور ہونے والے افراد کے صبح کے بلڈ پریشر میں 74 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو افراد الارم کلاک کو بٹن دبا کر بند کرتے ہیں، ان کی نیند زیادہ متاثر ہوتی ہے جبکہ قدرتی طور پر جاگنے والے افراد کی نیند طویل ہوتی ہے اور وہ دن بھر میں کم کیفین استعمال کرتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ آپ الارم کلاک استعمال کرتے ہیں یا نہیں، لوگوں کی نیند کا دورانیہ عموماً یکساں ہوتا ہے، مگر جو افراد الارم استعمال نہیں کرتے، انہیں دن بھر میں کم تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق امراض قلب کے شکار افراد کو نیند کی کمی اور اچانک اٹھنے پر بلڈ پریشر بڑھنے سے زیادہ نقصان دہ اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ویسے تو ہر فرد کا ہی بلڈ پریشر کسی حد تک صبح اٹھنے پر بڑھتا ہے مگر اس میں بہت زیادہ اضافہ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق امراض قلب کے شکار افراد کو نیند کی کمی اور اچانک اٹھنے پر بلڈ پریشر بڑھنے سے زیادہ نقصان دہ اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ اگر صبح بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ جائے تو اعصابی نظام متحرک ہوتا ہے جس سے دل پر تناؤ بڑھتا ہے اور وہ زیادہ محنت کرنے لگتا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ الارم کے استعمال سے لوگوں کی نیند کا قدرتی سائیکل متاثر ہوتا ہے جس کے باعث ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
دل کے زیادہ محنت کرنے سے تھکاوٹ، سانس لینے میں مشکلات، انزائٹی اور سردرد جیسی علامات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الارم کے استعمال کے ساتھ ساتھ نیند کی کمی بلڈ پریشر میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نتائج کی تصدیق کے لیے زیادہ بڑے پیمانے پر تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں کو صبح کے معمولات بدلنے چاہیے۔ قدرتی طور پر اٹھنے کی کوشش کرنی چاہیے یا نیند کا دورانیہ بڑھانا چاہیے۔
لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…
’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…
انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…
آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…
جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…