منی بجٹ اجلاس کے دوران خواتین اراکین اسمبلی آپس میں الجھ پڑیں، ویڈیو وائرل

جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں رہنما پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کہ خواتین اراکین پارلیمنٹ آپس میں الجھ پڑیں۔ یہ سب اس وقت شروع ہوا جب حکومت نے ایوان میں فنانس (ضمنی) بل 2021، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل، 2021 متعارف پیش کیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے شور شرابے کے دوران حکمران جماعت پی ٹی آئی کی ایم این اے غزالہ سیفی اور اپوزیشن جماعت پی پی پی کی شگفتہ جمانی کے درمیان ایوان میں ہاتھا پائی ہوگئی۔

متنازعہ فنانس بل کے پیش کرنے کے دوران اپوزیشن کے اراکین احتجاج کرتے ہوئے ایوان میں موجود وزراء اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کرتے ہیں۔ جوں اراکین وزراء کے نشستوں کے قریب آتے ہیں، تو دونوں خواتین کو ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی ، چیختے اور دھکے دیتے دیکھا جاتا ہے۔

اس دوران اپوزیشن اراکین اسپیکر کے ڈائس کے سامنے احتجاج کا سلسلہ شروع کرتے ہیں تو دو خواتین ارکان جس میں پی پی پی کی شگفتہ جمانی اور پی ٹی آئی کی غزالہ سیفی کے درمیان معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ جاتا ہے۔ واقعے کی فوٹیج سے پتہ چلتا ہے کہ شگفتہ جمانی نے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ایم این اے کو تھپڑ مارا جب ان کے ساتھ کچھ گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس کے بعد پی پی پی پارلیمنٹرین نے غزالہ سیفی کا ہاتھ مروڑ دیا اور انہیں دھکا دیا۔

دوسری جانب پی پی پی کے ارکان کا کہنا ہے کہ ان پر غزالہ سیفی نے حملہ کیا اور جس پر انہوں نے جوابی کارروائی کی۔ تاہم حکومتی ممبران اور اپوزیشن ممبران نے دونوں مشتعل خواتین کو فوراً الگ کر دیا۔

اس حوالے سے غزالہ سیفی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شگفتہ جمانی کے ساتھ لڑائی میں اس کا انگوٹھا ٹوٹا ہے۔ تاہم، ایک مقامی خبر رساں ادارے نے اس کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر کوئی ان پر جسمانی طور پر حملہ کرتا ہے، تو اسے یقینی طور پر ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پی ٹی آئی کے رکن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’’شگفتہ جمانی نے جس طرح سے برتاؤ کیا ہے، وہ اس پر حیران ہیں‘‘۔ “اس طرح سے برتاؤ کرنا، ایک ایسی جگہ میں جس میں اخلاقیات کے ایسے مخصوص ضابطے ہوں، ہمارے لیے ایک ایسی جگہ ہے کہ ہم جن لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں ان کے تحفظات کو آواز دیں، اس کے لیے اس طرح کے جھگڑے جیسے رویے کو کم کرنا ایک وجہ ہونا چاہیے۔ یہ محترمہ شگفتہ جمانی کے لیے انتہائی شرم کی بات ہے۔

البتہ اپوزیشن رکن اسمبلی شگفتہ جمانی نے اس معاملے پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے اس سے قبل اپوزیشن ارکان نے بجٹ اجلاس کے دوران حکومت کے خلاف عناصرف سخت احتجاج کیا تھا بلکہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف سخت نعرے بازی کی تھی۔ لیکن افسوس کے ساتھ حکومتی اراکین کے روئیوں میں بھی غیر سنجیدگی دیکھی گئی اور کئی ارکان کی جانب سے نازیبا جملوں کا استعمال کیا گیا۔ جس پر عوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago