فلم اور ٹی وی کی نامور اداکارہ ماورا حسین کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہور ہی ہے جس میں وہ ندا یاسر کے سوال کے پر اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کر رہی ہیں کہ گاڑی میں تیز میوزک لگانا اور چھیڑ چھاڑ کرنا لاہوریوں کا “فن” ہے اور اگر کوئی انہیں چھیڑے تو وہ اس پر برا نہیں مانتی۔
بظاہر ہلکے پھلکے انداز میں کہی جانے والی اس متنازعہ بات سے ماورا حسین کو اب اپنے فین سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ پہلے تولو. پھر بولو!!
حیرت کی بات یہ ہے کہ ماورا حسین نے باقاعدہ وکالت کی تعلیم حاصل کی ہے اور آج کل اپنے آن ائیر ہونے والے ڈرامے “ثبات “میں بھی وہ ایک ایسی لڑکی کا کردار نبھا رہی ہیں جو اخلاقی اقدار کو بہت اہمیت دیتی ہے ایسے میں ازراہِ مذاق پبلک پلیٹ فارم سےایسے تبصرے کرنا ان کی شخصیت کو زیب نہیں دیتا کیونکہ عورت کی عزت ہر صورت میں مقدم ہے اور چھیٹر چھاڑ کو محض تفریح سمجھنا اس کلچر کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔
اس حوالے سے ٹوئیٹر پر ان کے اس بیان پر کافی تنقید کی جارہی ہے کہ ماورا حسین کی جانب سے جو بات مزاق کی گئی وہ دراصل خواتین کے لئے ہمارے معاشرے میں ایک بڑا اہم سماجی مسئلہ تصور کیا جاتا ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں اس سے پہلے بھی ماورا اپنی ٹوئیٹر پوسٹ اور کمنٹ کی وجہ سےتنقید کا سامنا
کرتی رہی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ماورا اور ان کی بہن عروا نے سوشل میڈیا پر یہ بھی بولا تھا کہ ڈپریشن کی سب سے بڑی وجہ “خراب کھانا” ہے۔
بطور فنکارہ اور بحیثیت وکیل ماورا کو اپنے الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کرنا چاہئیے کیونکہ ہوسکتا ہے جو بات ان کے لئے تفریح کا سبب ہے معاشرتی لحاظ سے وہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہو جسکی کسی بھی صورت میں حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی ہو۔ اس لئے ہمارے فنکاروں کو اس طرح کے تبصرے کرنے سے پہلے سوچنا ضرور چاہئیے کیونکہ یہ ضروری نہیں ان کے خیالات ان کے چاہنے والوں کیلئے قابل ِقبول ہوں۔
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…
پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…
کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…
14 شعبہ جاتِ اطفال پر مشتمل 88 شواہد پر مبنی طبی رہنما اصولوں پر مشتمل…
پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…
پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…