پاکستان کی پہلی خاتون ہندو ڈی ایس پی، منیشا کماری

کوئی بھی انسانی معاشرہ اس وقت تک کامیاب اور مثالی نہیں بن سکتا، جب تک اس معاشرے میں موجود اقلیت اپنے آپ کو محفوظ اور آزاد تصور نہ کرتی ہے۔ اور بحیثیت پاکستانی آج ہم اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ناصرف اقلیتوں کے لئے محفوظ ہے بلکہ انہیں مثالی آزادی میسر ہے، ہمارے ملک میں چیف جسٹس آف پاکستان سے لیکر بڑے بڑے عہدوں پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اپنی ذمہ داریاں خلوص دل سے نبھائیں ہیں۔ انہیں شخیصات کی فہرست میں اب اور نام کا اضافہ منیشا کماری کا ہونے جا رہا ہے، جنہیں یہ پاکستان کی پہلی ہندو خاتون ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) کے منصب پر فائز ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔

سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق منیشا کماری بالو مال روپیتا کی بیٹی ہیں، جن کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر جیکب آباد سے ہے۔ منیشا کماری نے رواں برس سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحان سی سی ای 19 میں کامیابی حاصل کی ہے اور وہ اب پاکستان کی تاریخ کی پہلی ہندو خاتون ڈی ایس پی سندھ پولیس تعینات ہوئی ہیں۔

اس بات کو سب سے پہلے سماجی کارکن کپل دیو کی جانب سے بتایا گیا کہ منیشا کماری ڈی ایس پی عہدے پر تعینات ہوگئیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر جاری پیغام میں کیپل دیو کا کہنا تھا کہ تمام منفی خبروں کے بیچ ایک بڑی مثبت خبر، منیشا ولد بالو مال سندھ سروس پبلک کمیشن کا سی سی ای امتحان پاس کرنے کے بعد پہلی ہندو خاتون ڈی ایس پی بن گئی ہیں۔

جوں ہی سوشل میڈیا پر یہ خبر وائرل ہوئی، ملک بھر سے عوام کی جانب سے بڑی تعداد میں منیشا کماری کو ناصرف مبارکباد کے پیغامات بھیجے جارہے ہیں بلکہ ان کی آنے والی زندگی کے لئے بھی نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔

منیشا کماری کی زندگی اور ان کی کامیابی جہاں ملک کی ہندو برادری کے لئے ایک مثال اور حوصلے کا باعث ہے، وہیں وہ ملک کی دیگر خواتین کے لئے بھی عزم ، ہمت اور حوصلے کا ذریعہ ہے۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں فخر ہے کہ پاکستانی خواتین ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہر شعبے میں اپنی زبردست صلاحیتوں کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہی ہیں۔

واضح رہے اس سے قبل بھی پاکستان میں بڑی تعداد میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بیوروکریسی، عدلیہ اور افواج پاکستان میں اپنی زبردست خدمات پیش کی اور ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اگر میڈیکل شعبے کی بات کرلی جائے، تو ہندو برادری کی پاکستان میں خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

یاد رہے کچھ عرصہ قبل ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے راہول دیو کو پاکستان ائیرفورس میں جنرل ڈیوٹی (جی ڈی) پائلٹ بنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا، وہ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے پہلے پاکستانی تھے، جنہیں جی ڈی پائلٹ بننے کا اعزاز ملا تھا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago