لاہوریوں نے سکھوں، ہندؤں کی طرح انگریزوں کا ساتھ دیا، اچکزئی

پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے ایم اے پی) کے سربراہ محمود خان اچکزئی ایک بار پھر کڑی تنقید کی زد میں آگئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے ہونے والے جلسے میں خطاب کے دوران اہلیان لاہور کی توہین کرتے ہوئے کہا کہ، لاہوریوں نے ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ انگریزوں کی حمایت کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں خطاب کے دوران اہلیان لاہور پر الزام عائد کیا کہ لاہور نے انگریزوں کے ساتھ مل کر افغان سرزمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، انہوں نے اس دوران مزید کہا کہ ہمیں یہ چھوٹا سا گلہ ہے کہ لاہور انگریزوں کے ساتھ تھا۔

Image Source: Twitter

محمود خان اچکزئی کا مزید کہنا تھا کہ انگریزوں نے جب اس تمام علاقے پر قبضہ کیا تو اس افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے انگریزوں کے خلاف کھڑا ہوا تھا، تاہم لاہور نے اس وقت افغانستان پر قبضے کی حمایت کی تھی۔

جوں ہی سماجی رابطے کی مختلف ویب سائٹس پر پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے ایم اے پی) کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا یہ متنازعہ بیان وائرل ہوا، صارفین کی جانب سے شدید ردعمل بھی دیکھنے میں آیا، صارفین نے ناصرف محمود خان اچکزئی کے بیان کی بھرپور مذمت کی بلکہ غم و غصے کا بھی اظہار کیا۔

اس دوران وفاقی وزیر انسانی حقوق شیری مزاری نے بھی محمود خان اچکزئی کے بیان پر شدید ناراضگی اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے یہ ریمارکس “شرمناک ” ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذوالفقار بخاری عرف زلفی بخاری نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری کردہ پیغام میں انہوں نے بھی پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی کے بیان پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔

اس ہی سلسلے میں پاکستان کے مشہور و معروف صحافی اور اینکر پرسن معید پیرزادہ نے محمود خان اچکزئی کی تاریخی عوامل پر معلومات پر انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

یقیناََ پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے ایم اے پی) کے رہنما محمود خان اچکزئی جیسے سنئیر سیاست دان کو اس طرح کی نفرت انگیز اور نسل پرستانہ تبصرے کرتے دیکھنا، ایک نہایت ہی افسوسناک بات ہے۔ محمود خان اچکزئی کے اس بیان نے یقینی طور پر پاکستان کے آج ہر شہری کو ناخوش کردیا ہے۔

واضح رہے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں جب یہ تقریر کی گئی، اس دوران اسٹیج پر پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان مسلم لیگ کی سینئر نائب صدر مریم نواز بھی موجود تھیں۔ جبکہ اس جلسے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا تھا۔

Image Source: Twitter

جلسے میں مریم نواز نے موجودہ وزیراعظم عمران خان کو ناصرف تابعدار کہہ کر پکارا بلکہ انہوں نے ان کی اور ان کی جماعت کی کارکردگی کو بھی خوب آڑے ہاتھوں لیا۔

دوسری جانب سربراہ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب کے دوران اپنی پارٹی کی جدوجہد کے حوالے سے بات کی اور بتایا کس طرح موجودہ حکومت پاکستان کو اور اسکی معیشت کو تباہ کررہی ہے۔

یاد رہے کچھ عرصہ قبل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا ایک جلسہ کراچی میں بھی منعقدد ہوا تھا، وہاں بھی پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود اچکزئی کی جانب سے اردو زبان کے حوالے سے متنازعہ بیان دیا گیا تھا، اس پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago