ڈیزائنر پر چاقو کے وار کرنیوالے ملزم کی عبوری ضمانت منظور ہوگئی

کراچی کی سیشن عدالت نے شارع فیصل سے متصل فیلکن کمپلیکس سوسائٹی میں پارکنگ کے معاملے پر تنازعے کے دوران معروف ڈیزائنر اور ان کے دو بیٹوں کو زخمی کرنے والے ملزم اور ان کے والد کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔

ڈان نیوز کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت نے پارکنگ پر جھگڑے کے دوران دو نوجوانوں کو چھریوں کے وار سے زخمی کرنے کے نامزد ملزم ابراہیم درانی اور والد خالد درانی کی پچاس پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے پولیس کو 19 اپریل تک ملزمان کی گرفتاری سے روکنے کا حکم دیا ہے۔

فیشن ڈیزائنر محمد معظم خان نے اس واقعے پر شاہراہ فیصل تھانے میں مقدمہ درج کرایا تھا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جھگڑا گاڑی کھڑی کرنے پر ہوا، ملزمان نے قتل کرنے کی نیت سے چاقو سے حملہ کیا۔ اس مقدمے میں ملزمان پر اقدام قتل اور زخمی کرنے کے الزامات عائد کیے۔ 

فیشن ڈیزائنر نے ایف آئی آر میں کہا کہ 16 مارچ کی رات کو وہ اپنے گھر میں موجود تھے اور شور سن کر وہ باہر آئے انہوں نے کہا کہ ان کے پڑوسی ابراہیم درانی نے مبینہ طور پر ان کو نازیبا زبان استعمال کی اور قتل کی نیت سے ان پر چاقو سے حملہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ میرے ہاتھ میں زخم آئے اور اسی وقت ان کے دونوں بیٹے فہد اور عطا بھی گھر سے باہر آئے اور مجھے بچانے کی کوشش کی لیکن ملزم نے ان پر بھی حملہ کرتے ہوئے چھریوں کے وار کیے۔

درخواست گزار کا ایف آئی آر میں یہ بھی کہنا تھا کہ اسی دوران ملزم کے والد خالد درانی بھی وہاں پہنچ گئے اور اپنے بیٹے سے کہا کہ ان پر اور تشدد کرو۔ اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہےجس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ابراہیم درانی کے ہاتھ میں چاقو ہے۔ جس کے وار سے میرے ہاتھ میں زخم آئے اور اسی وقت دونوں بیٹے فہد اور عطا بھی گھر سے باہر آئے اور مجھے بچانے کی کوشش کی لیکن ملزم نے ان پر بھی حملہ کرتے ہوئے چھریوں کے وار کیے۔

معظم خان نے مزید بتایا کہ ان کے بیٹے فہد کو کان پر اور عطا کو پیٹھ پر زخم لگے۔ اسی دوران ملزم کے والد خالد درانی بھی وہاں پہنچ گئے اور اپنے بیٹے سے کہا کہ ان پر اور تشدد کرو۔ان کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے کے باوجود میں نے اپنے دونوں زخمی بیٹوں کو طبی امداد کے لیے نجی اسپتال پہنچایا۔

اس واقعے کے بارے میں معروف فیشن ڈیزائنر نے پولیس کو بتایا کہ ان کی اہلیہ کے مطابق ملزم نے ہوائی فائرنگ بھی کی اور انہیں دھمکی دی کہ اگر پولیس میں رپورٹ کی تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

فیشن ڈیزائنر کی جانب سے مقدمہ درج ہونے کے بعد دونوں ملزمان سندھ ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کے سامنے پیش ہوئے۔ انہوں نے درخواست جمع کرتے ہوئے استدعا کی کہ انہیں ضمانت قبل از گرفتاری دی جائے۔

وکیل صفائی نے دلائل دئیے کہ پولیس نے ان کے مؤکل کے خلاف بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کرلیا ہے۔جج نے دونوں ملزمان کی 50 ہزار کے ضمانتی کے عوض 19 اپریل تک عبوری ضمانت منظور کرلی اور تفتیش میں حصہ بننے کی ہدایت کی۔

گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے میں پڑوسیوں کے درمیان پارکنگ کے مسئلے پر شروع ہونا والے اس تنازعے نے سنگین شکل اختیار کرلی ، پہلے دونوں فریقین کے درمیان بحث ہوئی اور پھر بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔اس دوران ابراہیم درانی نے ایک چھوٹی کیچین چھری کا استعمال کیا اور اس کے وار سے معظم خان اور ان کے دو بیٹے فہد اور عطا زخمی ہوئے۔ مزید یہ کہ اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوئی اور لوگوں نے ابراہیم درانی کے چاقو کے کھلم کھلا استعمال پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔

Story Credit: Dawn

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago