کک باکسنگ چیمپئن نثار احمد خان نے مالی مدد کی اپیل کیوں کی؟

پاکستان میں کک باکسنگ کے چیمپئن نثار احمد خان نے نومبر میں روس میں کک باکسنگ کے عالمی مقابلے میں شرکت کرنے کیلئے لوگوں سے امداد مانگ لی۔ نیشنل لیول پر کئی میڈلز اپنے نام کرنے والے نثار احمد اس عالمی مقابلے میں قومی پرچم سربلند کرنے کے خواہشمند ہیں مگر اس بین الاقوامی مقابلے میں شمولیت کے لیے انہیں دو لاکھ روپے کی رقم درکار ہے جو وہ اپنے محدود مالی وسائل کی وجہ سے ادا نہیں کرسکتے۔ اس رقم کو اکٹھا کرنے کے لئے انہوں نے عوام سے مدد طلب کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نثار احمد، کک باکسنگ ویلٹر ویٹ 52 کلو کیٹیگری میں قومی چیمپئن ہونے کے باوجود کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور مالی تنگی کی وجہ سے وہ دن کے وقت میں چائے کے ہوٹل پر کام کرتے ہیں اور پھر شام میں کک باکسنگ اور باکسنگ کی ٹریننگ کرتے ہیں۔ جن ہاتھوں سے نیشنل سطح پر نوجوان کھلاڑی نے ان گنت میڈلز اور سرٹیفیکیٹ سمیٹے انہی ہاتھوں سے وہ ہوٹل میں آئے گاہکوں کے لئے پراٹھے بناتے ہیں۔

Image Source: Dawn

نوجوان کک باکسر نثار احمد خان کا شمار ایسے محنتی اور ٹیلنٹڈ لوگوں میں ہوتا ہے کہ جن کے پاس مجبوریاں تو بہت تھیں مگر انہوں نے وقت اور حالات کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے اور اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

Image Source: File

رنگ میں بے خوف لڑنے والا نثاراحمد زندگی کی جنگ بھی دلیری سے لڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ 8 سال پہلے اپنے بھائیوں کے ہمراہ کوئٹہ سے روزگار کی تلاش میں کراچی آیا تھا۔ مارشل آرٹس سے لگاؤ اسے کک باکسنگ اور پھر باکسنگ کی طرف لے گیا۔ چھوٹی سی عمر سے کی جانے والی انتھک محنت اور جنون نے نثار احمد خان کو نیشنل چیمپئن بنا دیا۔ واضح رہے کہ نثار احمد کا ٹیلنٹ دیکھ کر انٹرنیشنل باکسر عامر خان نے انہیں گزشتہ برس باکسنگ مقابلے میں شرکت کے لیے لاہور بھی بلوایا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ٹوکیو اولمپکس میں قومی ہیرو ارشد ندیم نے جویلین تھرو کے فائنل راونڈ تک پہنچنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ بن گئے۔ وہ اس مقابلے میں میڈل تو نا جیت سکے مگر انہوں نے نامساعد حالات کے باوجود بہترین کارکردگی سے پاکستانیوں کے دل جیت لیے ہیں۔ پاکستان آمد پر شہریوں کی بڑی تعداد نے ائیرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔ تاہم، ارشد ندیم میڈل نہ جیتنے پر آبدیدہ نظر آئے۔میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے ارشد ندیم اولمپکس کی تاریخ میں پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں جنوں نے کسی ’انویٹیشن کوٹے‘ یا وائلڈ کارڈ کے بجائے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اولمپکس کیلئے براہ راست کوالیفائی کیا تھا۔

Story Courtesy: Hassan Baig

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago