خاتون ایس ایچ او نے ملزمان کو حاضر دماغی سے گرفتار کروا دیا

ایک انسان کی سب سے بڑی خوبی اس کی ذہانت ہوتی ہے۔ اگر ایک شخص ذہین ہے تو یقین کیجئے وہ زندگی کا ہر کام کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، پھر چاہئے وہ کتنا ہی مشکل کام کیوں نہ ہو۔ ایسا ہی کچھ دلچسپ واقعہ کراچی میں پیش آیا، جہاں ایک خاتون پولیس ایس ایچ او نے ڈکیتی میں ملوث مطلب ملزم کو موبائل پر دوستی کے بہانے گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پیش آیا اپنی نوعیت کا ایک انتہائی انوکھا واقعہ جہاں تھانہ ٹیپو سلطان میں تعینات خاتون ایس ایچ او نے اپنی حاضر دماغی کا فائدہ کچھ یوں اٹھایا کہ ڈکیت سے پہلے پہلے دوستی کی پھر اسے ملنے کے لئے ایک مقام پر بلایا اور پھر انہیں گرفتار کرلیا۔

Image Source: Twitter

واقعہ کچھ یوں ہوا کہ ایک پولیس کو ڈکیتی کے ایک کیس میں ملزمان کی تلاش تھی، اس دوران خاتون پولیس ایس ایچ او تھانہ ٹیپو سلطان کو ایک ملزم کا نمبر ملا، لہذا ایس ایچ او نے ملزم سے فون پر بات چیت کی اور ملزم سے دوستی کرلی، بعدازاں خاتون ایس ایچ او کی جانب سے ملزم کو ایک مقام میں ملنے کے لئے بلایا گیا۔ اس دوران ملزم پورے معاملے کی حقیقت سے بےخبر تھا۔ لہذا پلان کے مطابق ملزم اپنی خاتون دوست سے ملنے کے لئے متعین جگہ پر پہنچا گیا۔ جس پر خاتون ایس ایچ او اور سادہ لباس میں موجود پولیس اہلکاروں نے ملزم کو موقع پر ہی دھر لیا۔

اس پورے واقعہ کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے انتہائی بہادری اور حاضر دماغی کے ساتھ ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ اس دوران گرفتار ملزم کے قبضے سے لوٹے گئے زیورات، نقدی، موبائل فون برآمد ہوئے ہیں۔ جبکہ گرفتار ہونے والے ملزم کی نشاندہی پر پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ساتھی کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔

اس کاروائی کے حوالے سے پولیس نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمان نے پندرہ روز قبل کراچی میں ایک شہری کے گھر ڈکیتی کی تھی، جس میں ملزمان نے شہری کے گھر سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان لوٹا تھا۔

واضح رہے پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا کیس ہے، جس میں پولیس افسران کی جانب سے بہادری کی اعلی مثال قائم کی گئی ہے، اس سے قبل ایسا ہی بہادری کا ایک واقعہ کشمور میں پیش آیا تھا، جہاں کراچی سے نوکری کا جھانسہ دیکر کشمور بلائی گئی خاتون اور 4 سالہ بیٹی کو 14 روز تک انسان نما درندوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ جہاں ملزمان نے خاتون کو اس شرت پر چھوڑا کہ وہ دوسری لڑکی کا بندوبست کرے اور اپنی بیٹی کو آکر لے جائے۔

جس پر خاتون دہائیاں دیتی مقامی تھانے میں جاپہنچی اور پورا معاملہ آے ایس آئی محمد بخش بریرو کو سنایا، لہذا بہادر اے ایس آئی نے خاتون کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی بہادر بیٹی کو خاتون کے ہمراہ بھیجا، جنہیں لینے کے لئے جیسے ہی ملزمان آئے تو سادہ لباس پولیس اہلکاروں نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا، جس کے بعد پولیس نے دیگر ملزمان کو بھی پکڑا اور بچی کو بازیاب بھی کروایا۔

اس واقعے میں بہادر اے ایس آئی اور اس کی بہادر بیٹی نے پوری قوم کا سرفخر سے بلند کردیا۔ یقیناً پولیس ادارے میں کچھ کالی بھیڑیں بھی ہونگی البتہ بیشتر افسران اور اہلکار عوام سے محبت کرتے ہیں اور ملزمان کو پکڑنے کے لئے ہر حد تک اپنی کوشش کرتے ہیں۔ لہذا ہمیں بھی چاہے کہ اپنی پولیس کا احترام کریں۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago