کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری قائم کر لی ہے، جس کے تحت مالی معاونت اور اسٹریٹجک تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ پاکستان کی کسان برادری کو مضبوط بنانے اور زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد مل سکے۔ جدید ذخیرہ سازی کے انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل مالیاتی خدمات اور مارکیٹ تک براہِ راست رسائی کو ایک مربوط پلیٹ فارم پر یکجا کرتے ہوئے یہ اشتراک چھوٹے کاشتکاروں کو اپنی فصل محفوظ رکھنے، الیکٹرانک ویئرہاؤس رسید (EWR) کی بنیاد پر آسان اور منصفانہ مالی سہولت حاصل کرنے اور پائیدار ذرائعِ معاش کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی، منڈی میں شفافیت کے فروغ اور کاشتکاروں کو باضابطہ مالیاتی نظام کا حصہ بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

کسان گودام نے فصل کی کٹائی کے بعد محفوظ ذخیرہ سازی کی عالمی کمپنی GrainPro کی ہرمیٹک (ہوا بند) اسٹوریج ٹیکنالوجی کو ڈیجیٹل ٹریڈنگ اور زرعی مالیاتی سہولیات کے ساتھ جوڑتے ہوئے ایک منفرد ماڈل متعارف کرایا ہے۔ روایتی گوداموں کے مقابلے میں GrainPro کے ہرمیٹک کوکون نسبتاً کم لاگت، آسان نقل و حمل اور زرعی علاقوں کے قریب تنصیب کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جس سے نقل و حمل کے اخراجات اور فصل کے ضیاع میں کمی آتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ محفوظ ذخیرہ شدہ اجناس کے معیار اور مقدار کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں قرض کے لیے قابلِ اعتماد ضمانت کے طور پر بھی مؤثر بناتے ہیں۔ اس شراکت داری کی بدولت کسان گودام پاکستان کے دیہی علاقوں میں فصل کے بعد کے اپنے مربوط نظام کو مزید وسعت دے گا، جس سے مالی شمولیت میں اضافہ اور زرعی برادری کی مساوی ترقی کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر کارانداز پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وقاص الحسن نے کہا،”پاکستان کی زرعی معیشت کی مؤثر ترقی کے لیے صرف قرضوں تک رسائی کافی نہیں بلکہ ایسے مضبوط انفراسٹرکچر اور مارکیٹ روابط بھی درکار ہیں جو مالیاتی سہولیات کو حقیقی معنوں میں مؤثر بنائیں۔ اس شراکت داری کے ذریعے ہم ایسے ماڈل کی حمایت کر رہے ہیں جو کاشتکاروں کے قریب ذخیرہ سازی کی سہولت فراہم کرے، انہیں اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل کرنے کے مواقع دے اور ساتھ ہی سرکاری شعبے کو قومی غذائی تحفظ متاثر کیے بغیر اجناس کی منڈیوں سے بتدریج نکلنے میں مدد فراہم کرے۔ یہ اقدام زرعی شعبے میں ایک بنیادی اور دیرپا تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔“

اس شراکت داری کے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کسان گودام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فرحان طاہر نے کہا،”کاشتکاروں کو اپنی پیداوار کی قدر محفوظ رکھنے، باضابطہ مالیاتی سہولیات سے استفادہ کرنے اور بہتر منڈیوں تک رسائی کے لیے ضروری وسائل فراہم کر کے ہم مالی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے محفوظ ذخیرہ سازی اور دیہی پاکستان میں مضبوط اور پائیدار معاشی مواقع کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔“

اس مرکزی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے دونوں ادارے ٹیکنالوجی پر مبنی ذخیرہ سازی کی نگرانی کو ویئرہاؤس رسید پر مبنی مالیاتی سہولت کے ساتھ مربوط کریں گے۔ کسان گودام کی شریک بانی اور چیف ٹیکنالوجی آفیسرانعم طاہر نے بتایا کہ پلیٹ فارم کا ڈیجیٹل والیٹ براہِ راست ویئرہاؤس انفراسٹرکچر سے منسلک ہے، جس کی بدولت ذخیرہ شدہ اجناس کی فوری اور قابلِ اعتماد تصدیق ممکن ہوتی ہے اور انہیں ضمانت کے طور پر استعمال کر کے وہ فنانسنگ حاصل کی جا سکتی ہے جس کے اجرا میں پہلے کئی ہفتے لگتے تھے، جبکہ اب یہی سہولت چند منٹوں میں دستیاب ہوگی۔

تقریبِ دستخط میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے اکنامک آفیسر ٹام اے پیٹر نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے اس شراکت داری کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان زرعی شعبے میں تعاون کی ایک مضبوط مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی کمپنی GrainPro کی ہرمیٹک ذخیرہ سازی کی ٹیکنالوجی پاکستان کے چھوٹے کاشتکاروں اور ملک کے باضابطہ زرعی شعبے پر مثبت اور قابلِ پیمائش اثرات مرتب کرے گی۔

اس شراکت داری کے ذریعے کارانداز پاکستان اور کسان گودام کا مقصد جدید ذخیرہ سازی، مالیاتی خدمات اور منڈی تک بہتر رسائی کو وسعت دے کر پاکستان کی زرعی ویلیو چین میں ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دینا اور اسے مزید مؤثر اور مضبوط بنانا ہے۔

zeeshan

Recent Posts

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

1 week ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 week ago

وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ویسٹ واٹر ماحولیاتی نگرانی کی حکمتِ عملی اور جینومکس ڈیش بورڈ کا افتتاح کر دیا

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل انسٹی…

3 weeks ago

ویزا اسٹڈی:  %82پاکستانی صارفین خریداری کے لیے AI استعمال کرتے ہیں، لیکنچیک آؤٹ کے وقت اعتماد ‏فیصلہ کن

• پاکستان میں %82 صارفین نے خریداری میں مدد کے لیے  آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial…

2 months ago