انڈونیشیا اورعمان،اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے والے اگلے مسلم ممالک؟

عالمی سیاسی منظرنامے پر ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے ایک کامیاب امن معاہدہ کرنے کے بعد اب متعدد مسلم ممالک سے سفارتی تعلقات استوار کرنے میں جلدی میں ہے۔

تفصیلات کے مطابق کچھ بین الاقوامی میڈیا ذرائع اس سلسلے میں دعوی کر رہے ہیں کہ آئندہ چند ہفتوں میں انڈونیشیا اور عمان اگلے مسلم ممالک ہو سکتے ہیں جو کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی روابط جلد قائم کریں گے۔

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق، اس سلسلے میں پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی عہدے سے سبکدوشی یعنی 20 جنوری سے قبل متوقع ہے۔ انٹیلیجنس کے وزیر ایلی کوہن نے بھی ایک فوجی ریڈیو انٹرویو میں انڈونیشیا کے حوالے سے کچھ ایسا تذکرہ کیا ہے۔

Image Source: Twitter

اس حوالے سے خبریں زیرگردش ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ مزید عرب اور مسلم ممالک کو ابراہم معاہدے میں شامل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

واضح رہے متحدہ عرب امارات اور بحرین پہلے ہی اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے لیے حامی بھر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل اور مراکش کے درمیان تعلقات استوار کرنے کا اعلان جمعے کو ہونے کے امکانات ہیں۔

البتہ سی این این انڈونیشیا کے مطابق، انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے ایسی کسی بھی کاوش کی تردید کی ہے۔ مزید یہ کہ انڈونیشیا نے فلسطینی ریاست کے حق میں اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے ۔

امن معاہدے روزمرہ کی بات بنتے جا رہے ہیں، امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے اتوار کو یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمین نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ انھوں نے کہا کہ مستقبل میں مزید اسرائیل ۔ عرب معاہدے ہو سکتے ہیں۔

Image Source: Twitter

امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے چار معاہدوں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش، اور سوڈان کے تناظر میں ازراہ مذاق کہا کہ اسرائیلی اب بڑی کشمکش کا شکار ہیں کہ وہ وہاں کہاں جائیں؟ دبئی یا مراکش؟ ابو ظہبی یا مراکش؟ انھوں نے کہا کہ انھیں یہ یقین ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کر لیں گے۔ وہ دونوں جگہ جائیں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے عمان کے ساتھ 1994 سے 2000 تک غیر سرکاری تجارتی تعلقات تھے۔ مزید یہ کہ دونوں ممالک ایرانی جارحیت کے خلاف تعاون کرتے ہیں۔

گو کہ اسرائیل اور انڈو نیشیا کے مابین رسمی سفارتی تعلقات نہیں ہیں، دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تجارت اور سیاحت میں تعاون کرتے ہیں۔ اںڈو نیشیا نے ستر اور اسی کی دہائی میں اسرائیل سے اسلحہ خریدا اور انڈونیشیا کے فوجی اسرائیل میں تربیت حاصل کر چکے ہیں۔

گذشتہ دنوں بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ کے حوالے سے افواہیں گردش کر رہی تھیں تاہم پاکستان نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کی تردید کی اور ایسی خبروں کو جعلی قرار دیا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اگرپاکستان پر بیرونی دباو ڈالا گیا تو پاکستان کسی دباو کا شکار نہیں ہوگا۔
وزیر اعظم عمران خان نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل نہیں نکل پاتا، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago