پاکستان اور بنگلادیش کا ترانہ ہوم ورک میں کیوں دیا، بھارتی انتظامیہ سیخ پا

بھارت میں شدت پسندی کا رجحان دن بدن بڑھنے لگا، ابتداء میں ریاستی سربراہی میں پنپنے والی شدت پسندی سیاسی اور مذہبی معاملات تک تھی لیکن اب اس کی سطح کو بھارتی انتظامیہ اور نیچے تک لے گئی ہے کہ اسکول کے بچوں کے ذہنوں میں بھی شدت پسندی اور عدم برداشت کے فلسفے کو بڑھاوا دیا جارہا ہے۔

بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ کے مشرقی ضلعے سنگھ بھوم میں پیش آیا عدم برداشت کا ایک اور واقعہ، جہاں ایک کنڈر گارٹن اسکول میں بچوں کو پاکستان اور بنگلادیش کے قومی ترانے سیکھنے کا کہنے پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست جھارکھنڈ کی ایک اسکول ٹیچر شیلا پروین نے اسکول نے اسکول کے بچوں کو گھر کا کام دیتے ہوئے 7 جولائی اور 8 جولائی کو پاکستان اور بنگلادیش کے ترانے یاد کرنے کو کہا۔ اس سلسلے میں اسکول ٹیچر شہلا پروین کی جانب سے بچوں اور ان کے والدین کے لئے بنائے گئے واٹس ایپ گروپ میں ان ترانوں کی یوٹیوب ویڈیوز بھی شئیر کی گئی۔ یاد رہے دنیا بھر کی طرح لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے، جس کے باعث بچوں کی آن لائن تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔

اس معاملے نے اس وقت سر اٹھایا جب بچوں کے والدین نے اس اسکول ہوم ورک پر احتجاج کیا، جس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان کنال سرناگی نے اس معاملے کے حوالے سے ٹوئیٹ کی جس میں انہوں نے ریاست جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ، وزیر تعلیم اور ریاستی حکام کو اس ٹوئیٹ میں ٹیگ کیا۔

دوسری جانب اسکول انتظامیہ کی جانب سے وضاحتی بیان میں بتایا گیا ہے کہ واٹس ایپ گروپ میں بھیجے گئے پیغام جس میں پاکستانی اور بنگلادیشی ترانے یاد کرنے کو کہا گیا تھا, اس واٹس ایپ پیغام کو اب ہٹا دیا گیا ہے۔ جبکہ اس معاملے کی مرکزی کردار مرکزی ٹیچر شیلا پروین نے بتایا کہ “انہوں نے اسکول انتظامیہ کی ہدایت پر عمل کیا ہے”. جس کا واحد مقصد بچوں کے علم میں اضافہ کرنا تھا۔

ساتھ ہی معاملے کی تحقیقات کا بھی آغاز کردیا گیا ہے ، ضلعی ایجوکیشن افیسر شیوندرا کمار کے مطابق ضلعی انتظامیہ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے اور اسکول کو موقف دینے کے لئے نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے۔ کیونکہ کسی بھی اسکول کو بھارت کے علاوہ کسی ملک کا ترانہ سیکھانے کی اجازت نہیں ہے۔

جبکہ اسکول کے پرنسپل کی جانب سے اس ہوم ورک ٹاسک کو معطل کردیا گیا ہے اور ان تمام افراد سے معافی بھی مانگی گئی ہے جن کی اس وجہ سے دل آزاری ہوئی ہے البتہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان کنال سر ناگی نے اسکول کے خلاف سخت کاروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اسکول کے خلاف اگر آج کاروائی نہیں کی گئی تو یہ ملک میں ایک ٹرینڈ بن جائے گا۔ ہم کیا یہ امید رکھیں کیا 14 اگست کو اسکولوں میں پاکستان کے جھنڈے لہرائے جائیں گے؟ انہوں نے اس پر مزید موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اتنی سی عمر میں بچوں کی اس طرح کی ذہن سازی نہیں ہونے دیں گے۔

Source: Independent Urdu

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago