بھارت میں دو مسلمان نوجوان پاکستانی گانا سننے پر گرفتار

پڑوسی ملک انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے اقلیتوں کے لیے زمین تنگ کردی ہے اور ان کے بنیادی حقوق بری طرح سلب کیے جارہے ہیں۔ خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ تو ہندؤں کا روئیے نہایت نفرت انگیز ہے اور وہ ہر اس موقع سے فائدہ اٹھا رہے جس سے وہ مسلمانوں کو اذیت پہنچا سکیں۔ اس بات کی تازہ مثال بھارتی ریاست اترپردیش میں پیش آنیوالا واقعہ ہے جس میں 16 اور 17 سالہ دو نوجوانوں کو صرف اس لئے گرفتار کرلیا گیا کہ وہ دکان پر پاکستانی گانا سن رہے تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش کے ضلع بریلی میں اپنی دکان میں نعیم اور مستقیم نامی دو نوجوان پاکستانی گانے سُن رہے تھے، گانوں کے بول میں پاکستان زندہ باد آنے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی لیڈر نے دیگر دکانداروں کے ہمراہ پولیس میں شکایت درج کرادی۔۔

Image Source: Express News

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ لڑکے ایسے گانے سن رہے تھے جس میں پڑوسی ملک پاکستان کی تعریف کی جارہی تھی اور ایک گانے میں پاکستان زندہ باد کے الفاظ بھی شامل تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب ان لڑکوں کو گانے بند کرنے کے لیے کہا گیا تو دونوں نے نہ صرف جھگڑا کیا بلکہ بھارت کے بارے میں غلط الفاظ کا استعمال بھی کیا۔ جبکہ زیر حراست نوجوانوں نے اعترافی بیان میں کہا کہ اپنی دکان میں ہم نے پاکستانی نغمات چلائے لیکن اندازہ نہیں تھا کہ اس کے یہ نتائج سامنے آئیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے بھارت کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی انتہا پسندی جاری ہے۔ مختلف واقعات میں بھارتی ریاست گجرات، مدھیہ پردیش اور اترپردیش میں انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے گھروں اوراملاک کولوٹنے کے بعد آگ لگارہے ہیں۔ گجرات میں تو ہندو انتہاےپسندوں کے جتھے نے مسجد کے سامنے تلواریں لہرا کر رقص کیا، جنگی نعرے لگائے ، دھمکیاں دیں اور مسجد پر دھاوا بول کر توڑ پھوڑ بھی کی۔ جبکہ ان واقعات میں پولیس حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کے بجائے اان کا ساتھ دے رہی ہے۔ ہندو انتہا پسندوں کی جارحیت کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئیں۔

الغرض، بھارت میں ان واقعات کے رونما پذیر ہونے سے اقلیتوں کی نام نہاد مذہبی آزادی کی حقیقت بے نقاب ہورہی ہے۔ گزشتہ دنوں بھی سوشل میڈیا پر ایک جنونی ہندو مذہبی رہنما کی تقریر وائرل ہوئی جس میں اس نے کھلے عام مسلمان خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ مذکورہ ویڈیو میں ہندو مذہبی رہنما نے مسجد کے سامنے گاڑی میں بیٹھ کر بڑے دھڑلے کے ساتھ لاؤڈ اسپیکر پر مسلمان خواتین کو اغواء کرنے اور سرعام زیادتی کرنے کی دھمکیاں دیں اس دوران مجمع ہندوؤں کے مذہبی نعرے لگاتا جبکہ پولیس بھی موجود نظر آئی۔

خیال رہے کہ ہندؤں کے اس متعصبانہ روئیے سے بھارت میں مذہب پر مبنی جرائم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور حالیہ برسوں میں تو مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافے کے سبب کچھ لوگوں نے اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوری طاقت ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے تحت خطرناک حد تک عدم برداشت کا شکار ہو رہی ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago