بھارت: راجھستان میں مسلمانوں کی املاک پر آر ایس ایس کے انتہاء پسندوں کے حملے

بھارت کی سرزمین ایک بار پھر مسلمانوں پر تنگ کرنے کی کوشش، انتہاء پسند ہندوؤں کے مسلمان کی املاک پر کھلم کھلا حملے، بدترین توڑ پھوڑ کی گئی، کئی گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو نظر آتش بھی کر دیا گیا۔ پولیس نے کئی گھنٹے خاموش تماشائی بنے رہنے کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع کرولی میں ہفتے کے روز ہندو انتہاء پسندوں کی جانب سے مسلمان شہریوں کی املاک پر حملے کئے گئے ،جس میں ہندو بلوائیوں نے گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا، ناصرف بدترین توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی بلکہ املاک کو نظر آتش بھی کیا گیا۔

Image Source: Screengrab

ان افسوسناک واقعات کے نتیجے میں جہاں تقریباً 100 کے قریب مسلمان شہری بری طرح زخمی اور محض 24 گھنٹوں کے اندر 40 گھروں کو آگ لگائی گئی وہیں ہندو انتہا پسندوں نے مسلمان علاقوں میں ریلیاں نکالی اور مسلمانوں کو ہندوؤں کے انتہاء پسند نعرے لگانے پر بھی مجبور کیا۔ اس اندوہناک واقعات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔

اس موقع پر بھارتی انتظامیہ ہمیشہ کی طرح مسلمانوں کے معاملے کو لیکر خاموش دیکھائی دی اور مسلمان شہریوں کی غلطی تلاش کرنے میں لگی رہی، مقامی پولیس نے بھی حسب روایت ہندو انتہا پسندوں کا ساتھ دیا۔ نتیجتاً پورے علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے حالات بے قابو ہوگئے، جس کے بعد مقامی پولیس نے علاقے بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی اور 7 اپریل تک کرفیو عائد کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے ضلع میں انٹرنیٹ کی سروس بھی معطل کردی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی جانب سے مسلمانوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ اور جلانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کے انتہا پسندوں نے مسلمانوں کے 40 سے زائد گھروں میں توڑ پھوڑ کی لیکن بھارتی ریاستی مشینری عوام کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔

مزید پڑھیں: بابری مسجد کے بعد مزید2مساجد کو مندر بنانے کیلئے مہم شروع

واضح رہے بھارت میں مسلمان کے خلاف یہ کوئی پہلی منظم سازش نہیں ہے، اس سے قبل سال 2020 میں دہلی میں مسلمان آبادیوں پر اس وقت حملہ کیا گیا تھا، جب وہ بھارت کے متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج پر کئی روز سے بیٹھے تھے۔ انتہاء پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمان آبادیوں پر حملہ کیا گیا بلکہ مسلمان شہریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا، یہی نہیں ایک مسجد میں گھس کر توڑ پھوڑ کے بعد ہندوؤں کا جھنڈا مسجد کے مینار پر لگا دیا گیا تھا۔

یاد رہے کچھ ماہ قبل بھارتی ریاست کرناٹک میں کالج پرنسپل کی جانب سے دوران کلاس حجاب پہننے پر پابندی عائد کردی تھی، جس کے بعد مسلمان سمیت دیگر طلباء کی جانب سے اس کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تاہم انتہاء پسند ہندوؤں طلباء کی جانب سے کالج میں حجاب پہن کر آنے والی طالبات ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، اس دوران مسکان نامی بہادر طالبہ نے انتہاء پسندوں کے ہجوم کے سامنے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔ جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی تھی۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

6 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago