بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے لیکر اب تک مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر جو بے رحمانہ مظالم ہوئے ہیں، اس سے کون واقف نہیں ہے۔ ان واقعات میں سب زیادہ مسلمان متاثر ہورہے ہیں، جس کی ایک اور مثال حال ہی کا واقعہ ہے، جہاں دہلی میں خاتون مسلمان پولیس افسر کو جنسی زیادتی کے بعد انتہائی سفاکی کے ساتھ قتل کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پیش ظلم و زیادتی کا ہولناک واقعہ، جہاں ایک اور مسلمان پولیس افسر لڑکی کو عصمت دری اور جنسی زیادتی کے بعد انتہائی بربریت کے ساتھ قتل کردیا گیا، ستم فریقی کا عالم یہ ہے کہ جہاں حکومت ایک طرف خاموش تماشائی بنی ہوئی یے، وہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر واویلہ کرنے والا بھارتی میڈیا بھی واقعے پر کوئی آواز نہیں آٹھا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نئی دہلی کے علاقے سنگم وہار کی رہائشی 21 سالہ مسلمان صبیحہ سیفی 4 ماہ قبل دہلی پولیس ڈیفنس میں بطور سب انسپکٹر بھرتی ہوئی تھیں، 27 اگست کو چار افراد نے صبیحہ کو نہ صرف اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اس کے جسم کے حساس حصوں کو تیز دھار چاقو سے کاٹ کر الگ بھی کردیا ۔
بعدازاں ملزمان نے ظلم و زیادتی کی اس انتہا پر ہی بس نہیں کیا بلکہ صبیحہ سیفی کو اتنی اذیت دینے کے بعد اسے بے دردی سے قتل کردیا ۔
دوسری جانب پولیس فورس کی سب انسپکٹر صبیحہ سیفی کے اہلخانہ اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والے اس ظلم و بربریت کے واقعے کے بعد بھی انصاف کے حصول کیلئے دربدر دکھائی دے رہے ہیں، لڑکی کے اہلخانہ متعدد بار پولیس اسٹیشن اور دیگر متعلقہ محکموں کے چکر کاٹ چکے ہیں مگر ابھی تک کسی بھی در پر ان کی سنوائی نہیں ہوئی ہے۔ اہلخانہ کا یہی مطالبہ ہے کہ حکومت اور ادارے ان کے انصاف کریں۔
ساتھ ہی ساتھ واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر خبریں سامنے آنے کے بعد صبیحہ کو انصاف دلانے کیلئے بھارت کے مختلف شہروں میں مظاہرے اور سوشل میڈیا پر مہم شروع ہوگئی ہیں، عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر متاثرہ لڑکی کے اہلخانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔ تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچا جاسکے۔
واضح رہے کچھ عرصہ قبل بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر متھورا سے ایک انسانیت سوز ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں انتہاء پسند ہندوؤں نے ایک مسلمان لڑکے کو جئے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ انتہاء پسندوں کی جانب سے مسلمان لڑکے اور اس کے ساتھیوں پر گائیں کی اسمگلنگ کا الزام عائد کیا تھا۔
علاوہ ازیں ،بھارت میں ہندو لڑکے سے شادی سے انکار پر ایک مسلمان لڑکی کو بھی زندہ جلا دیا گیا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ انسانیت سوز واقعہ ریاست بہار کے ضلع وِشالی میں پیش آیا تھا، جہاں ایک 20 سالہ لڑکی کو تین ہندو نوجوانوں نے مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی تھی۔
Story Courtesy: Siasat.pk
کراچی،14 اپریل 2025: پاکستان میں نفسیاتی تجزیاتی سوچ کو فروغ دینے کی ایک پرعزم کوشش…
سوئی سدرن گیس لمیٹڈ کمپنی نے رمضان المبارک میں گھریلو صارفین کیلیے گیس کی لوڈشیڈنگ…
کراچی سمیت سندھ بھر میں اس سال نویں اور دسویں جماعت کا شیڈول تبدیل کر…
فروری سال کا وہ مہینہ ہے جو محض 28 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے اور…
پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے چیمپئنز ٹرافی کے اگلے راؤنڈ تک جانے کا سفر مشکل ہوچکا…