خود ساختہ بھارتی چوکیدار نریندرمودی، فوجیوں کی ہلاکت پر خاموش

سیر کو سوا سیر آپ نے اکثر و بیشتر اردو کا یہ محاورہ تو سنا ہی ہوگا لیکن اس کی موجودہ حقیقی شکل آپ سب دیکھ سکتے ہیں جو اس بھارت و چین کے متنازعہ علاقے لداخ میں جاری ہے۔ مظلوم اور نہتے کشمیریوں پر ظلم کرنے والی بھارتی فوج کس طرح لداخ میں چینی افواج کے سامنے بھیگی بلی بنی ہوئی ہے۔

پچھلے ماہ سے لداخ میں بھارتی افواج اور چینی افواج کے مابین امن و امان کی صورتحال کافی کشیدہ ہے۔ جس کی کئی ویڈیوز انٹرنیٹ پر ماضی میں وائرل بھی ہوچکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چینی فوج نے لداخ میں بھارتی زیر کنڑول والے کافی حصے پر قبضہ کرلیا ہے جس پر بھارتی فوج کی بینر اٹھانے تصاویر بھی ماضی میں منظر عام پر آئیں تھیں جس پر لوگوں کی جانب سے کافی مذاق بھی سوشل میڈیا پر آڑایا گیا تھا۔

دوسری جانب پیر کے روز اس ہی سلسلے سے منسلک بھارتی فوج اور چینی فوج کے مابین جھڑپ کی خبریں بھی سامنے آئیں جس میں تقریباً ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین بھارتی فوجی جن میں ایک کرنل اور دو سپاہی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ البتہ خدشہ ہے ہلاکتوں کی تعداد بیس سے زیادہ ہے جسے بدنامی کے خدشے کے باعث بھارتی فوج اور مودی سرکارِ چھاپنے کی کوشش کررہی ہے۔

بعدازاں اس واقعے کی تصدیق خود بھارتی آرمی کے ترجمان نے اپنے ٹوئیٹر پیغام کے ذریعے کی جس میں اجئے شکلا نے کہا کہ علاقے کو چینی فوج سے خالی کرانے کے دوران دونوں فوجوں میں جھڑپ ہوئی جس باعث تین بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے۔ جس میں ایک کرنل اور دو فوجی سپاہی شامل تھے۔

اگرچہ اس پراسرار واقعے پر بھارتی فوجی ترجمان کا بیان تو آگیا لیکن اگر نہ آیا تو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا کوئی بیان نہیں آیا۔ وہ پورے معاملے پر خاموشی کا روزہ رکھیں ہوئے ہیں۔ اپنی تقریروں میں خود کو بھارت کا چوکیدار کہنے والے بھارتی وزیر اعظم یا تو اس وقت شاید شدید غفلت کی نیند میں ہیں ہے یا پھر چین ڈرے سہمے بیٹھے ہوئے ہیں کہ کہیں چین پتھر کے بجائے اینٹ سے حملا نہ کردے۔

ساتھ ہی وزیراعظم نریندر مودی کے گیت گانے والا بھارتی میڈیا بھی یا تو خاموشی اختیار کیا بیٹھا یا پھر لوگوں کو غلط انداز میں خبریں پہنچا رہا ہے۔ جس کی مثال ایک بھارتی نجی چینل کی خبر سے لگایا جاسکتا ہے جس نے لوگوں کو یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ اس واقعے کی خلاف بھارتی فوج نے کاروائی کرکے تینتالیس چینی فوجی ہلاک کردیے ہیں۔ اور اس جیسی دیگر خبروں پر بھارتی عوام اور اپوزیشن کے رہنماؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر خوب تنقید کے تیر چلائے جارہیں۔

واضح رہے بھارتی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی اس وقت قومی اور بین الاقوامی سیاسی محاذ پر بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ اس وقت بھارت کے اپنے کسی بھی پڑوسی ملک سے خاطر خواہ کوئی اچھے تعلقات نہیں ہیں۔ جبکہ ساتھ ہی بھارتی انتظامیہ کو اپنی عوام اور عالمی دنیا کی جانب سے کشمیر پر مظالم کرنے، این آر سی بل اور اقلیتوں پر ہونے والی بربریت کے واقعات پر پہلے ہی خوب تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا اور اس واقعے نے گویا پوری بھارتی قوم کو دنیا میں رسوا کرکے رکھ دیا ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago