نیٹ فلکس سیریز”ہیرا منڈی” اور لاہور کی اصلی ہیرا منڈی میں کیا فرق ہے ؟


0

بالی وڈ کے مشہور ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالی کی ویب سیریز ’ہیرا منڈی- دی ڈائمنڈ بازار‘ رواں ہفتے ویب سٹریمنگ سروس نیٹ فلکس پر ریلیز کی گئی ہے۔ آٹھ اقساط پر مشتمل اس سیریز کی کہانی 1910-1940 کی دہائی میں برطانوی راج کے خلاف ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے پس منظر میں فلمائی گئی ہے۔

Heeramandi Difference Lahore Heeramandi

ہیرا منڈی لاہور میں ہے اور لاہور کو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے ہیرا منڈی نیٹ فلیکس پر دکھائی گئی ہے اس کے کچھ آثار لاہور میں موجود ہیں یا نہیں ؟

نیٹ فلیکس والی ہیرا منڈی صرف ایک ڈرامہ ہے اور اس ڈرامے میں دکھائی گئی طوائفوں سے لیکر عمارتوں تک کوئی بھی آج کے لاہور میں موجود نہیں

 ہیرا منڈی میں عالیشان محل دکھائے گئے، اداکاراؤں کو مہنگے کپڑے اور قیمتی زیورات پہنے دکھایا گیا جب کہ انگریزوں کی طرح نظر آنے والے اداکاروں کو اردو بولتے دکھایا گیا۔

Heeramandi Difference Lahore Heeramandi

سنجے لیلا بھنسالی نے نیٹ فلیکس پر جو ہیرا منڈی دکھائی ہے اس میں بڑی بڑی عالی شان حویلیاں ہیں جو آج کی اصلی ہیرا منڈی میں کہیں نظر نہیں آتیں۔اس ڈرامے میں جو نواب دکھائے گئے ہیں وہ انگریزوں کے زمانے میں لکھنؤ میں تو موجود تھے لیکن لاہور میں نہیں تھے۔سنجے لیلا بھنسالی کیلئے اس ڈرامے کا سکرپٹ معین بیگ نے لکھا ہے۔ ڈرامہ تو ڈرامہ ہوتا ہے جس میں حقیقت اور افسانے کا امتزاج بنانا ایک پرانی روایت ہے 

مزید پڑھیئے

شوبز انڈسٹری میں جنسی استحصال عام ہے، بی گل

عام خیال یہ ہے کہ لاہور کی ہیرا منڈی مغلوں کے دور میں قائم کی گئی لیکن ’تاریخ لاہور‘ کے مصنف کنہیا لال ہندی بتاتے ہیں کہ لاہور کی طوائفوں کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں عروج حاصل ہوا کیونکہ اس نے دو طوائفوں موراں اور گل بیگم سے شادی کی ۔موراں نے ایک مسجد بھی بنوائی اور جو مسجد مائی موراں کے نام سے مشہور ہوئی اور گل بیگم کے نام پر آج باغ گل بیگم کا علاقہ لاہور میں موجود ہے ۔


مستنصر حسین تارڑ کی ’لاہور آوارگی ‘ کے ایک باب کا نام ’ہارٹ آف ہیرا منڈی‘ہے جہاں تارڑ صاحب نور جہاں، فریدہ خانم، مہدی حسن، بڑے غلام علی خان اور کئی دیگر بڑے فنکاروں کو تلاش کرتے نظر آتے ہیں لیکن نیٹ فلیکس والی ہیرا منڈی ان کی کتاب میں نظر نہیں آتی۔

سچ یہ ہے کہ اصلی ہیرا منڈی شاہی قلعہ لاہور کے پہلو میں نہیں بلکہ بھارت اور پاکستان کے بڑے شہروں کے ماڈرن علاقوں میں منتقل ہو چکی ہے ۔پرانی ہیرا منڈی میں طوائفیں زلف ورخسار بیچتی تھیں لیکن نئی ہیرا منڈیوں میں اہل سیاست و صحافت اپنا کردار بیچتے ہیں ۔ضمیر فروشی اور انصاف فروشی آگے نکل گئی جسم فروشی بہت پیچھے رہ گئی


Like it? Share with your friends!

0
Annie Shirazi

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *