اعلیٰ افسر کے بیٹے نے خنجر کے وار سے 2 لوگوں کو زخمی کردیا

کہتے ہیں طاقت کا نشہ سر چڑھ کر بولتا ہے اور اس کے نشے میں چُور انسان ہر احساس سی عاری ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ شہر قائد میں پیش آیا جس میں پارکنگ کی جگہ پر ہونیوالی لڑائی میں سرکاری اہلکار کے بیٹے نے مبینہ طور پر دو افراد کو خنجر سے وار کرکے زخمی کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے شہید ملت روڈ پر واقع رہائشی اپارٹمنٹس پی اے ایف فیلکن کمپلیکس میں کار پارکنگ کی جگہ پر دو لوگوں کے درمیان شدید بحث ہوئی اور پھر اس بحث نےاس وقت پُرتشدد موڑ اختیار کیا جب ابراہیم نامی شخص نے دو افراد کو خنجر سے وار کرکے شدید زخمی کردیا۔ ان زخمیوں کو طبی امداد کے لئے فوری طور پر قریبی اسپتال پہنچایا گیا، جبکہ حملہ آور موقع سے فرار ہوگیا۔ تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

Image Source: Medium

اس دل دہلا دینے والے واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے ۔ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں میں اعلیٰ افسر کے بیٹے کو ایک شخص سے بحث کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم گارڈ ان دونوں کے درمیان بیچ بچاؤ کروانے کی کوششش کررہا ہے اور ساتھ ساتھ اعلیٰ افسر کے بیٹے کو یہ بھی کہہ رہا ہے میں آپ کا خادم و غلام ہوں۔

جب کہ اس واقعے کی دوسری ویڈیو خنجر کے وحشیانہ حملہ کے بعد کی ہے، جس میں مذکورہ شخص سڑک پر خون میں لت پت زخمی حالت میں پڑا ہوا ہے اور زخموں کی شدت سے تڑپ رہا ہے، زخمی شخص کے اہل خانہ کی آہ وبکا کو بھی ویڈیو کلپ میں باآسانی سنا جاسکتا ہے۔

اس ویڈیو کلپ میں پریشان کن مواد موجود ہے قارئین اپنی صوابدید پر دیکھیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امیر باپ کی ان بگڑی اولادوں نے روشنیوں کے شہر کو اپنی جاگیر سمجھ لیا ہے، بدمعاشی اور طاقت کے زور پر یہ قانون کی گرفت سے آذاد کچھ بھی کرسکتے ہیں اور اس لاقانونیت پر کوئی بھی ان سے سوال پوچھنے کی جرات نہیں کرسکتا۔

چونکہ گزشتہ دنوں بھی شہر کراچی میں ایک سرکاری ادارے کے افسر نے طاقت کے زور پر معروف آئی سرجن ڈاکٹر اعظم علی کو کلینک میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا اور موقع پر موجود سینیئر لیڈی ڈاکٹر کو بھی دھکے دئیے۔

شہر قائد میں رونما ہونیوالے ان واقعات پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں ہر مسئلے کا حل صرف اور صرف طاقت کا ناجائز استعمال ہے؟؟ کیا یہ بااثر افراد قانون سے بالاتر ہیں؟ اور کیا قوانین کی پاسداری صرف عام شہریوں تک محدود ہے؟؟

افسوس صد افسوس کہ کار پارکنگ کا یہ معمولی سا تنازعہ ایک پرتشدد کارروائی بن گیا اور محض طاقت کے بل بوتے پر بگڑے ہوئے ایک امیر زادے نے خنجر سے حملہ کر کے دو لوگوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دے اور خود آذادانہ گھوم رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد تو ایسا معلوم ہوتا ہے واقعتا ًاس شہر میں اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے!!

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago