ایک ہاتھ سے محروم فوڈ ڈلیوری رائیڈر سہیل احمد معذور افراد کیلئے مثال بن گیا

مشہور آن لائن سروس فوڈ پانڈا نے پاکستان میں اپنی سروس کا آغاز سات سال پہلے شروع کیا تھا۔ اس سے جہاں کسٹمر کو گھر بیٹھے گرما گرم کھانا اور دیگر ضروری اشیاء منگوانے کی سہولت میسؔر آئی وہیں کئی بیروزگار افراد کو رائیڈر کی باعزت نوکری بھی ملی۔ جس کی بدولت آج وہ باعزت روزی کمارہے ہیں بلکہ اس سروس کے توسط سے کئی معذور افراد بھی فوڈ ڈلیوری رائیڈر کی جاب کرکے اپنے اہل خانہ کی کفالت کررہے ہیں۔

ان ہی رائیڈر میں ایک سہیل احمد بھی ہیں جو ایک ہاتھ سے محروم ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بنایا، اور ایک ہاتھ نا ہونے کے باوجود رزق حلال کمانے کے لئےموٹر سائیکل پر فوڈ پانڈا سروس کے ذریعے لوگوں کو گھروں پر کھانا فراہم کرتے ہیں۔

Image Source: Instagram

بیشک اگر انسان میں محنت کرنے کی لگن ہو تو وہ اپنی معذوری کو بھی آڑے نہیں آنے دیتا، پھر چاہے کوئی بھی معذوری کیوں نا ہو غیرت مند انسان کو محنت کی کمائی کے علاوہ  کچھ اور گوارا نہیں ہوتا۔ وہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلنے کے بجائے اپنے زور بازو پر بھروسہ کرتا ہے اور اس بات کا عملی ثبوت کراچی کے فوڈ پانڈا رائیڈر سہیل احمد نے پیش کردیا ہے۔

Image Source: Instagram

سہیل احمد کا ایک ہاتھ کام کے دوران پریس مشین میں آگیا، مشین آٹو میٹیک تھی اس لئے فوری طور پر اس کو روک نہیں جاسکا جس کی وجہ سے ان کا پورا ہاتھ ضائع ہوگیا۔ڈاکٹروں نے سہیل کو مصنوعی ہاتھ لگانے کے لیے دس سے پندرہ لاکھ کا خرچہ بتایا جو کہ وہ ادا کرنے سے قاصر تھے۔ گھر میں دوسرے نمبر پر ہونے کی وجہ سے ان پر ذمہ داریاں بھی تھیں لہٰذا انہوں نے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے زور بازو پر بھروسہ کیا اور حلال رزق کمانے کو ترجیح دی اور فوڈ پانڈا میں رائیڈر کی نوکری حاصل کرلی۔

ایک ہاتھ سے محرومی کی وجہ سے سہیل کو کام کے دوران مشکل تو پیش آتی ہے لیکن وہ اپنے حوصلے سے ہر مشکل کا مقابلہ کر لیتے ہیں، وہ ٹریفک جام میں بھی اپنی موٹر سائیکل مہارت سے چلاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں مقررہ وقت پر کسٹمر کو کھانا پہنچا سکیں۔ بعض کسٹمرز بھی ان کا خیال کرتے ہیں اگر آرڈر زیادہ ہو تو اکثر کسٹمرز خود ان کے بیگ سے آرڈر نکال لیتے ہیں۔ سہیل کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی تنگی کے سبب اس نوکری میں بس ان کا گزر بسر ہوجاتا ہے مگر وہ اس پر بھی اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ ان کو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑتا۔

خیال رہے کہ ایک اور فوڈ پانڈا رائیڈر محمد علی بھی ایک ہاتھ سے معذور ہیں اور اسٹیک کی مدد سے چلتے ہیں، مگر انہوں نے بھی سہیل کی طرح اپنی نوکری میں معذوری کو آڑے نہیں آنے دیا۔ وہ روزانہ اپنی مخصوص موٹر سائیکل پر بروقت لوگوں کو گھروں پر آرڈر پہنچاتے ہیں اور کبھی بھی اپنے کام میں کوئی کوتاہی نہیں برتتے۔ اس کے علاوہ شہر قائد کے ایک اور نوجوان فہد نے بھی اپنی محنت سے معذور افراد کے لئے مثال قائم کردی ، بچپن میں ایکسیڈنٹ میں ایک بازو ضائع ہونے والے اس نوجوان کے حوصلے عام افراد کے مقابلے بہت بلند ہیں، وہ کہتے ہیں انہیں کام کے دوران کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

7 hours ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

1 week ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 week ago

وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ویسٹ واٹر ماحولیاتی نگرانی کی حکمتِ عملی اور جینومکس ڈیش بورڈ کا افتتاح کر دیا

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل انسٹی…

3 weeks ago